این ایف سی اجلاس میں صوبے کا مقدمہ پیش کروں گا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

خیبرپختونخوا حکومت نے این ایف سی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے جس کے حوالے سے وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ اجلاس میں صوبے کا مقدمہ پیش کریں گے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور صوبائی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کی اور کہا کہ حکومت کی جانب سے این ایف سی کا اجلاس بلایا گیا ہے اور پارلیمانی پارٹی نے اجلاس میں شرکت کی منظوری دے دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی کے اجلاس میں ہم اپنے صوبے کے حقوق کا مقدمہ لڑیں گے، صوبے کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا ہے، قبائلی علاقے انتطامی طور پر ضم تو ہوچکے ہیں لیکن معاشی حقوق کو تسلیم نہیں کیا جا رہا، سات سال سے قبائلی علاقہ جات کے بقایاجات ادا نہیں کیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی این ایف سی کے حوالے سے سیمنار شروع کیے جا رہے ہیں تاکہ نوجوان نسل کو بھی معلوم ہو کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نےکہا کہ پی ٹی آئی کے بانی چئیرمین عمران خان کو 4 نومبر سے اب تک آئسولیشن میں رکھا گیا ہے، ان کی بہنوں کو ملاقات کے لیے چھوڑا جا رہا ہے نہ وکلا اور  ڈاکٹر مل رہے ہیں اور نہ ہی مجھے ملنے دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب عمران خان کے حوالے سے  میڈیا پر تشویش ناک خبر سامنے آئی تو ہم نے بانی چیئرمین سے ملنے کی کوشش کی، ہمیں ملنے نہیں دیا گیا، ہم نے صبح تک دھرنا دیا، اب منگل کے روز ارکان اسمبلی، سینیٹرز اسلام ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کریں گے اور پھر عمران خان کی بہنوں سے اظہار یک جہتی کے لیے اڈیالہ جیل کے سامنے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری تحریک صوبے کے حقوق کے لیے الگ اور سیاسی جدوجہد الگ سے ہے، وفاقی حکومت چاہتی ہے تصادم ہو لیکن ہم ایسا موقع نہیں دیں گے، ہم نے آدھا خیبر پختونخوا نہیں کھویا یہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے لیکن یہاں تو پورا ملک ایک ہی آدمی کے ہاتھ میں ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلے ہوئے جس سے ہمیشہ نقصان ہوا، جو فارمولہ ہم دے رہے ہیں اس پر عمل ہو تو امن بحال ہوگا، وفاقی حکومت صوبائی حکومت اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات کرتے تو امن کا گہواہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیراہ میں میری خاندانی زمین ہے اس کے علاوہ نہیں، لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، ہم چاہتے ہیں جو لوگ مداخلت کرتے ہیں وہ اپنے کام سے کام رکھیں۔

Similar Posts