عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 28 فروری کو ایران کے جنوبی شہر میں واقع ایک گرلز پرائمری اسکول پر فضائی حملے میں 168 طالبات کی شہادت کی تصدیق ہوئی تھی۔
گزشتہ روز جب پینٹاگون میں امریکی وزیر دفاع میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے تو اس دوران بی بی سی کے صحافی نے پوچھا کہ کیا امریکی فوج اس حملے کی ذمہ دار ہے؟ شہری اہداف کو نشانہ بنانے کے الزامات پر آپ کیا کہیں گے؟
اس سوال کے جواب میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے کے بارے میں صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ابھی اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
جب صحافی نے پوچھا کہ اتنی انٹیلی جنس کے باوجود بھی بچیوں کے اسکول پر بمباری کیسے ہوگئی؟ آپ کے پاس اس وقت کیا معلومات ہیں؟
تو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے صرف اتنا کہ کہ امریکی فوج عام طور پر شہری اہداف کو نشانہ نہیں بناتی تاہم اس خاص واقعے کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فی الوقت میں یہی کہہ سکتا ہوں۔
یاد رہے کہ پرائمری اسکول پر حملے میں 160 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جن میں زیادہ تر کم عمر طالبات شامل تھیں۔ حملے کے وقت بچے کلاسوں میں موجود تھے۔
ادھر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس حملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
امریکا اور اسرائیل نے اب تک اسکول کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کی ہے جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی تنصیبات اور میزائل صلاحیتوں کو نشانہ بنانا ہے۔