حافظ نعیم الرحمن کا ایجنڈا

جماعت اسلامی پاکستان کا اجتماع عام ایک بڑے دعوے کے ساتھ منعقد ہوا کہ ‘بدل دو نظام کو’ یہ خواہش اور مطالبہ صرف جماعت اسلامی کا مطالبہ نہیں بلکہ قوم کے دل کی آواز ہے۔ نظام کیسے بدلے گا؟ اس سوال پر گفتگو ضروری ہے لیکن جماعت اسلامی کا حالیہ اجتماع بہ جائے خود ایک واقعہ ہے جس پر گفتگو ہونی چاہیے۔

اجتماع عام کی روایت شاید جماعت کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی تاہم قیام پاکستان کے بعد 1963 کا اجتماع جماعت کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس پر ایوبی آمریت کے غنڈوں نے حملہ کیا اور جماعت کے ایک کارکن اللہ بخش شہید ہو گئے۔ جلسے پر فائرنگ اس وقت ہوئی جب جماعت کے بانی اور امیر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ تقریر کر رہے تھے۔ فائرنگ شروع ہوئی تو مولانا کے ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ بیٹھ جائیے۔ اس مشورے پر انھوں نے وہ تاریخی جملہ کہا جو تاریخ کے تذکروں میں سنہری حروف میں جگمگا رہا ہے۔ مولانا نے فرمایا تھا: ‘ میں بیٹھ گیا تو پھر کھڑا کون رہے گا۔’

لہٰذا گولیاں چلتی رہیں اور مولانا مودودی ؒتقریر کرتے رہے۔

 جماعت کی تاریخ میں 1963 کا اجتماع جیسے تاریخ ساز ہے، بالکل اسی طرح حالیہ اجتماع بھی یاد رکھا جائے گا کیوں کہ اس موقع پر بھی کئی نئے رجحانات قائم ہوئے ہیں جیسے اس میں خواتین نے اس میں نہ صرف بہت بڑی تعداد میں شرکت کی بلکہ ان کا ایک خصوصی سیشن بھی ہوا جس میں سارا اسٹیج خواتین کے سپرد کر دیا گیا یہاں تک کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن بھی خطاب کے بعد اسٹیج سے چلے گئے۔ میرے عزیز ترین دوست اور بزرگ ماہر اقبالیات پروفیسر فتح محمد ملک کے صاحب زادے پروفیسر نعیم طاہر ملک کے مطابق کسی سیاسی جماعت میں یہ خواتین کو امپاور کرنے کی منفرد اور سب سے بڑی مثال ہے۔

اس اجتماع کی ایک خاص بات اس کی غیر معمولی حاضری ہے۔ اعداد و شمار کے جھنجھٹ میں پڑے بغیر اس کی بھرپور حاضری کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور بلوچستان سے مندوبین اتنی بڑی تعداد میں آ گئے تھے کہ پہلے لاہور اور اس کے بعد پنجاب کے مندوبین سے کہا گیا کہ وہ ان کے لیے جگہ خالی کر دیں اور اپنے قیام کا بندوبست خود کریں۔

ذرایع ابلاغ نے اجتماع عام کی بھرپور حاضری پر بہت فوکس کیا ہے لیکن ایک پہلو تشنہ رہ گیا۔ یہ پہلو ایسا ہے جس کا تعلق قومی یک جہتی اور پاکستان کی نظریاتی اساس سے وابستہ ہے۔ اجتماع کے آغاز میں شرکا نے حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں قومی ترانہ پڑھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ریکارڈ ہے۔ اگر پیشگی بندوبست کر لیا گیا ہوتا تو یہ واقعہ ضرور گنیز بک کے ریکارڈ میں شامل ہو جاتا۔

 حافظ نعیم الرحمن کا تعلق جنریشن زی سے تو نہیں لیکن وہ نئے دور کے تقاضوں کو خوب سمجھتے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی بننے سے قبل جب وہ کراچی میں تھے، انھوں نے کمیونیکیشن کے جدید ذرایع کو نہایت مہارت سے استعمال کر کے اپنے مقاصد کی طرف پیش رفت کی کوشش کی ہے۔

اجتماع عام کے موقع پر ان کی قیادت میں قومی ترانے کا پڑھا جانا بھی ایسا ہی واقعہ ہے جس کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ جماعت کے وابستگان خواہ ملک کے کسی حصے میں بھی بستے ہوں، پاکستان حقانیت اور سلامتی پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی نظریاتی جہت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے۔ قومی ترانہ اس کی سب سے بڑی علامت ہے جس پر توجہ دے کر حافظ نعیم الرحمن نے نئی روایت قائم کی ہے۔

اسی طرح اجتماع عام کا نعرہ ہے یعنی بدل دو نظام کو۔ یہی خواہش اور آدرش ہے جس کی جستجو میں قوم نے سیاست کے کئی ذائقے چکھے ہیں۔ حال ہی میں یہ قوم تبدیلی کی آرزو میں ہی جاں گسل تجربے سے گزری ہے جس کے نتیجے میں یہ ملک اقتصادی دیوالیہ پن عالمی تنہائی کا شکار ہوا اور اس کا معاشرتی تار و پود بکھر کر رہ گیا۔ یہ سب کرنے والی قوتیں اب کہیں پڑی ہانپ رہی ہیں لیکن تبدیلی کی آرزو برقرار ہے۔ جماعت اسلامی اگر نظام کو بدلنے کی بات کرتی ہے تو اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ کچھ اگر مگر بھی ہیں۔

 اگر مگر یہ ہیں کہ جماعت نے قیام پاکستان سے اب تک کئی تجربے کیے ہیں۔ ان تجربوں کا حاصل ایک محاورے میں بیان کیا جا سکتا کہ دکھ جھیلے بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں۔ تجربات کی اس تلخی کے بعد ہی جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ تنہا اڑان بھرے گی، کسی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ درست ہو گا لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جماعت کے پیغام اور عوام کے درمیان کوئیNoiseہے۔

ابلاغی سائنس میں نوائز اس رکاوٹ کو کہا جاتا ہے جو پیغام کی ترسیل اور اثر انگیزی میں رکاوٹ پیدا کرے۔ یہی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے جماعت اسلامی پاور پالیٹکس میں صف اول کی اسٹیک ہولڈر نہیں بن سکی۔ اس مسئلے کا حل کیا ہے، اس پر جماعت نے کب غور شروع کیا، یہ معلومات تو دست یاب نہیں ہیں البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ قاضی حسین احمد مرحوم اس بارے میں ہمیشہ فکر مند رہے ہیں۔جماعت اسلامی کی قیادت حافظ نعیم الرحمن کی صورت میں تیسری نسل کو منتقل ہو چکی ہے۔

حافظ صاحب نئی نسل کے انداز فکر اور انداز کار سے بڑی حد تک واقف ہیں۔ کراچی کے امیر کی حیثیت سے انھوں نے ’’حق دو کراچی کو‘‘ کے عنوان سے اپنی مہم اسی انداز میں چلائی اور مقبولیت حاصل کی۔ یہی تحریک تھی جس نے انھیں کراچی میں برانڈ بنا دیا۔ مقبولیت کی یہ شکل کسی بھی سیاسی قائد کے لیے خوش قسمتی کا درجہ رکھتی ہے۔ حافظ صاحب نے اجتماع عام میں کارکنوں کو جو لائحہ عمل دیا ہے، وہ بھی اسی اسلوب میں ہے۔

جماعت اسلامی کا بنو قابل پروگرام حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں ہی شروع ہوا ہے۔ یہ زمانہ دنیا بھر میں بے روزگاری کا ہے۔ پاکستان اس سے زیادہ متاثر ہے۔ روزگار کے مواقع کی فراہمی بہت صورت ریاست اور حکومت کی ذمے داری ہے لیکن یہ مسئلہ جتنی وسعت رکھتا ہے، تنہا حکومت اس سے نمٹ نہیں سکتی۔ اس لیے سماج مؤثر طبقات کی ذمے داری ہے کہ وہ ملک کی نوجوان آبادی کو ہنر مند بنا کر اس کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ جماعت اسلامی نے یہ ذمے داری سنبھال کر اچھا کیا ہے۔

اس سے مسئلے کے حل میں بھی مدد ملے گی اور اس کے نئی نسل میں نفوذ کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ حافظ صاحب نے اعلان کیا ہے کہ اس پروگرام کی توسیع غیرہنر مند ورک فورس تک کی جائے گی۔ اس طرح بنو قابل پروگرام کی افادیت میں مزید اضافہ ہو گا۔ حافظ صاحب نے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے ساتھ انھیں کاروباری دنیا میں داخل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے، اس مقصد کے لیے وہ جماعت ہی کے زیر انتظام مائیکرو فنانس کا پروگرام شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

کوئی شبہ نہیں کہ یہ منصوبے نہ صرف مفید ثابت ہوں گے بلکہ عوام میں اثر و نفوذ کا ذریعہ بھی بن سکیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ حکمت عملی کسی سیاسی جماعت کو اقتدار میں لانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے؟ عمومی حالات میں ایسا ہو سکتاہے لیکن ہمارے ہاں اس کے علاوہ بھی کچھ درکار ہے۔

اس مقصد کے لیے حافظ صاحب نے عوامی مسائل پر جماعت کو مسلسل متحرک رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ حافظ صاحب اس شعبے میں خصوصی مہارت ہی نہیں رکھتے بلکہ کامیابیوں کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں لیکن سوال پھر وہی ہے، کیا یہ سب کافی ہو گا؟ اس کی آزمائش آنے والے دنوں میں ہو جائے گی البتہ اس حقیقت میں کوئی کلام نہیں کہ جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے طویل عرصے کے بعد ایسا پروگرام سامنے آیا ہے جس میں صرف سیاست پر فوکس نہیں کیا گیا بلکہ اقتدار میں آئے بغیر عوام کی بہبود پر توجہ بھی کی گئی ہے۔

Similar Posts