ان حملوں کے بعد حماس نے بھی جو امریکا کی نظر میں انتہائی معتوب عنصر ہے، یونیسیف اور امریکا سے اس بربریت کے خلاف مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔ دیکھنا یہ نہیں ہے کہ امریکا حماس کو سخت ناپسند کرتا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اسرائیلی اقدامات انسانیت کے خلاف گھناؤنے اقدامات ہیں اور یونیسیف اور امریکا جو دنیا میں امن و آشتی کے علم بردار ہیں، اس سلسلے میں اپنا کیا حق ادا کرتے ہیں۔ہم تو ان قوتوں سے مایوس ہو کر اور غزہ کے پڑوسیوں کے رویے سے دل برداشتہ ہو کر تین مسلم ممالک ترکیہ، ایران اور پاکستان کے گلہ گزار ہوئے تھے اگر مسلم ممالک میں کچھ جان باقی ہے تو یہی تین ممالک ہیں جو اسرائیل کے خلاف کم از کم آواز تو اٹھا سکتے ہیں۔
خدا کا شکر ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس بار اسرائیلی رویے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس قسم کے اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور حال ہی میں شرم الشیخ میں طے پانے والے امن معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان نے زور دیا ہے کہ عالمی برادری اس قسم کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، انسانی جانوں کے اتلاف اور بچوں اور عورتوں کے بہیمانہ قتل کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے اور اسرائیل کو اس ننگی جارحیت سے روکے۔دوسری طرف سعودی امدادی ایجنسی (شاہ سلمان مرکز) نے فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں 500 ٹن کھجوروں کی تقسیم کے اپنے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بھی ضروری ہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے کا گھیراؤ کر کے وہاں رسد و رسائل کو ممکن بنا دیا ہے اس کی وجہ سے دنیا بھر سے جو امدادی سامان بھیجا جا رہا ہے وہ سرحدوں پر رکا پڑا ہے۔ اسرائیل کو پابند کیا جانا ضروری ہے کہ وہ کم از کم امدادی سامان کی فراہمی تک اس ’’گھیراؤ‘‘ کو منقطع کردے۔ یہ ایک انسانی خدمات کا عمل ہے جس سے اسرائیل ناآشنا ہے مگر عالمی دباؤ سے شاید یہ آشنائی پیدا ہو سکے۔
برطانیہ ماضی کی سپرپاور ہے مگر اب بھی دنیا پر حکمرانی کرنے والی قوتوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ تقریباً نصف دنیا برطانوی عمل داری میں شامل تھی مگر دوسری جنگ عظیم نے اگرچہ جرمنی کو شکست سے دوچار کر دیا تھا اور برطانیہ فاتح ہو کر ٹھہرا تھا مگر ہوا یہ تھا کہ برطانیہ کی بھی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی اور اس کا استعمار برقرار نہیں رہا تھا۔ چنانچہ خود اپنی بقا کی خاطر برطانیہ نے اپنی پیٹھ پر لدے بوجھ اتارنا شروع کر دیے اور اس کے غلام ممالک ایک ایک کر کے آزاد ہونا شروع ہو گئے۔ برطانوی مملکت جس میں کبھی سورج غروب نہیں ہوا کرتا تھا اب وہاں سورج طلوع بھی کبھی کبھی ہوتا ہے۔
اب اس کی عملی حکمرانی صرف چند خستہ حال ممالک تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔لیکن بہرحال وہ دنیا بھر کا حکمران اول رہا ہے، اس لیے آج بھی اپنی جغرافیائی کم مائیگی کے باوجود عالمی حکمرانی کے تجربے کے طفیل عالمی طاقتوں کی گنتی شمار میں آتا ہے۔ آج وہ تنہا عالمی طاقت نہ رہا ہو مگر اب بھی عالمی طاقتوں کی صف میں کھڑا نظر آتا ہے۔لیکن اب برطانیہ کو انتہائی خطرناک صورت حال سے واسطہ ہے جس پر اگر قابو نہ پایا گیا تو یہ گرتی عمارت قسطوں میں نہیں فی الفور گر پڑے گی۔ اہل برطانیہ اور اس کی سیاسی جماعتیں اس صورت حال میں واقف بھی ہیں اور اس کا تدارک بھی چاہتی ہیں۔
اس وقت برطانیہ میں تقریباً دس لاکھ غیر قانونی تارکین وطن موجود ہیں اور ان میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس ہوتے ہوئے اضافے سے متاثر ہو کر اہل برطانیہ میں یہ لطیفہ مشہور ہو گیا تھا کہ ان کے ایک شہر میں جہاں برطانیہ میں مقیم غیر ملکی لیکن برطانوی شہری بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔ کسی شخص نے ایک گھر کی گھنٹی بجائی اندر سے پوچھے جانے پر گھنٹی بجانے والے نے کسی انگریز کا نام لے کر پوچھا ’’کیا یہ ان کا گھر ہے؟‘‘ جواب ملا ’’جی نہیں، یہاں کوئی غیر ملکی نہیں رہتا۔‘‘اہل برطانیہ کو اب یہ خوف کھائے جا رہا ہے کہ کہیں کل کسی کے گھنٹی بجانے پر لندن کے کسی گھر سے ایسا ہی جواب نہ مل جائے۔
کیونکہ دس لاکھ غیر قانونی قیام پذیر افراد کے علاوہ ہر روز کشتیوں کے ذریعے درجنوں کے حساب سے غیر قانونی افراد برطانوی ساحل پر اتر کر یہاں کی آبادی میں غرق ہو رہے ہیں اور برطانیہ کو اپنے ہی دیس میں اقلیت بن جانے کا خطرہ لاحق ہے۔
اس خطرے کو سب سے زیادہ محسوس کرنے والے، قدامت پسند اور مسلم دشمن رہنما نائجل فراج اور اس کی پارٹی ’’ریفارم یوکے‘‘ مقبول ہو رہی ہے۔ اور اگلا وزیر اعظم فراج ہو سکتا ہے۔دوسری طرف برطانیہ کی موجودہ وزیر داخلہ شبانہ محمود نے ایک جامع منصوبہ پیش کیا ہے جو غیر قانونی ہجرت کرنے والوں پر قابو پانے میں معاون ہوگا۔ شبانہ محمود ایک وکیل بھی ہیں اور ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کے پیش نظر بعض معتبر صحافیوں کا خیال ہے کہ وہ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور اپنے اس منصوبے کے پیش کرنے کے سبب ہو سکتا ہے آیندہ کی لیبر وزیر اعظم ہوں جو برطانوی مسلمانوں کے لیے ایک تاریخ ساز واقعہ ہوگا۔