ویرات کوہلی نے سچن ٹنڈولکر کا برسوں پرانا ریکارڈ توڑ کر تاریخ رقم کردی

بھارت کے اسٹار بلے باز ویرات کوہلی نے رانچی میں جنوبی افریقا کے خلاف پہلے ون ڈے میچ میں شاندار سنچری اسکور کرتے ہوئے تاریخ رقم کر دی۔

بھارت کے رن مشین ویرات کوہلی ایک بار پھر سے فارم میں واپس آگئے ہیں، رانچی میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میں جنوبی افریقا کے خلاف ویرات کوہلی نے اپنی سنچری بنا کر سچن ٹندولکر کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا جب کہ ان کے پُرجوش جشن کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوگئیں۔

 یہ ویرات کوہلی کی ون ڈے کیریئر کی 52 ویں سنچری ہے جس کے ساتھ وہ ایک فارمیٹ میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے کھلاڑی بن گئے۔  اس سے پہلے یہ اعزاز سچن ٹنڈولکر کے پاس تھا جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 51 سنچریاں بنائی تھیں تاہم اب یہ ریکارڈ بھی کوہلی کے قبضے میں آگیا ہے۔

بھارتی بلے باز ویرات کوہلی نے میچ میں بھرپور اعتماد کے ساتھ بیٹنگ کی، ابتدا میں دباؤ برداشت کیا اور بعد میں جنوبی افریقی بولرز کو مشکل میں ڈال دیا۔

میچ کے دوران ویرات نے اپنی کلاسیکی کوریو ڈرائیو اور بہترین اسٹرائیک روٹیشن کے ذریعے ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ یشاسوی جیسوال کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد انہوں نے روہت شرما کے ساتھ مل کر اننگز کو سنبھالا اور بھارت کو بڑے رنز کے حصول کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا۔

یہ سنچری کوہلی کی 83 ویں بین الاقوامی سنچری بھی ہے، جس میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 فارمیٹس شامل ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ کوہلی نے یہ ریکارڈ جنوبی افریقا کے خلاف 6 ویں مرتبہ ون ڈے سنچری بناتے ہوئے حاصل کیا، جس کے ساتھ وہ اے بی ڈی ویلیئرز اور کوئنٹن ڈی کاک کے برابر آگئے جنہوں نے بھارت کے خلاف 6،6 سنچریاں بنا رکھی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ویرات کوہلی نے جنوبی افریقا کے خلاف 32 میچوں میں 6 سنچریاں بنائیں اور ان کی اوسط 69.86 رہی۔ اس فہرست میں سچن ٹنڈولکر 5 سنچریوں کے ساتھ دوسرے اور گیری کرسٹن 4 سنچریوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

رانچی میں یہ کوہلی کی تیسری سنچری تھی جس کے بعد وہ بھارت میں کسی ایک میدان پر سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے بھارتی بیٹر بھی بن گئے۔

اس سنگ میل کے ساتھ کوہلی نے ثابت کر دیا کہ 36 سالہ بیٹنگ آئیکون اب بھی کھیل کے بڑے ریکارڈز کے پیچھے دوڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔ وہ اب عالمی سطح پر سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے کھلاڑی بن گئے ہیں جب کہ مجموعی بین الاقوامی رنز میں 28,000 رنز تک پہنچنے کا ہدف بھی ان کے سامنے ہے، جو صرف سچن تندولکر اور کمار سانگا کارا نے حاصل کیا ہے۔

Similar Posts