برطانیہ کا سعودی عرب کے دفاع کے لیے لڑاکا طیارے بھیجنے کا اعلان

برطانیہ نے سعودی عرب کی درخواست پر اپنے فوجی تعاون میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام میں ٹائفون لڑاکا طیاروں کے علاوہ ٹرانسپورٹ طیارے اور فوجی مشیر بھی شامل ہوں گے، تاکہ سعودی فضائی حدود اور اہم تنصیبات کے دفاع میں مدد دی جا سکے۔

برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی رائل ایئر فورس کے ٹائفون لڑاکا طیارے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فضائی مشن انجام دیں گے۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق ان مشنز کا مقصد سعودی شہروں اور اہم قومی تنصیبات کو حوثی باغیوں کے میزائلوں اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دینا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق برطانوی طیارے صرف دفاعی کردار ادا کریں گے اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف جارحانہ فضائی حملے نہیں کریں گے۔ برطانوی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ حوثیوں کے مسلسل حملے علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور ان سے توانائی کی فراہمی اور تجارتی راستے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

برطانوی وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ نے اپنے بیان میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا ظاہر کرتا ہے کہ حوثی خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔

ان کے مطابق اسی صورت حال کے پیش نظر انہوں نے سعودی فضائی حدود کو میزائلوں اور ڈرونز سے محفوظ رکھنے میں مدد کے لیے رائل ایئر فورس کے ٹائفون طیاروں کی دفاعی پروازوں کی منظوری دی ہے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق برطانیہ نے یہ اضافی فوجی تعاون سعودی حکومت کی درخواست پر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت برطانیہ ایک اٹلس اے 400 ایم ٹرانسپورٹ طیارہ اور فوجی مشیر بھی تعینات کرے گا۔

یہ تعاون ستمبر میں اعلان کردہ مدد میں اضافے کے طور پر سامنے آیا ہے، جس میں رائل ایئر فورس کا وائجر فضائی ایندھن بھرنے والا طیارہ شامل تھا، تاہم اس وقت لڑاکا طیارے بھیجنے کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

برطانوی وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق خلیج میں بڑھتی کشیدگی برطانیہ کو بھی متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں توانائی کی فراہمی میں خلل، قیمتوں میں اضافہ اور برطانوی کاروباروں کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے۔

بیان میں حوثیوں کو مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ سعودی عرب اور یمن کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

وزارتِ دفاع نے مزید کہا کہ برطانیہ پہلے ہی سعودی عرب کے فضائی دفاع میں فوجی تعاون کر رہا ہے۔ اس میں دفاعی سازوسامان کی تعیناتی اور میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں سے تحفظ کے لیے برطانوی اہلکاروں کی معاونت شامل ہے۔ تازہ فیصلے کے ذریعے اس تعاون کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات پر حوثیوں کے حملوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران اضافہ ہوا ہے، جب کہ یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق پیر کو صوبہ شبوہ میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے تربیتی کیمپ پر حوثیوں کے حملے میں 58 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

برطانوی حکومت کے مطابق سعودی عرب اور یمن اس کے دیرینہ شراکت دار ہیں اور علاقائی استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لندن کا کہنا ہے کہ وہ توانائی کی فراہمی اور اہم تجارتی راستوں کے تحفظ، سعودی عرب کے دفاع میں معاونت اور یمن کے تنازع کے سفارتی حل کے لیے کوششوں کی حمایت کو اہمیت دیتا ہے۔

Related posts