کیا امریکا بھی فرانس کی طرح قرضوں کے بحران میں پھنس سکتا ہے؟
فرانس سمیت کئی مغربی ممالک بڑھتے قرضوں، سود کی ادائیگیوں اور سیاسی اختلافات کے باعث معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ امریکا کا قرض اور بجٹ خسارہ بھی بڑھ رہا ہے تاہم امریکی ڈالر کی عالمی حیثیت، مضبوط معیشت اور اے آئی کے شعبے میں بڑھتی سرمایہ کاری کے باعث فی الحال امریکا کو فرانس جیسے فوری بحران کا خطرہ نہیں ہے۔
فرانس کو بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں اور سیاسی اختلافات کے باعث معاشی بحران کا سامنا ہے، جہاں حکومت کی آمدنی کے مقابلے میں اخراجات زیادہ ہونے، قرضوں پر سود بڑھنے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے مالیاتی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ وہی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ٹیکسوں میں اضافہ اور سرکاری اخراجات میں کمی جیسے اقدامات زیر غور ہیں تاہم یہ فیصلے عوام میں مزید غصے کا سبب بن سکتے ہیں۔
فرانس میں پہلے ہی حکومت کے خلاف عوامی بے چینی پائی جاتی ہے جب کہ منقسم حکومت کے لیے بجٹ پر اتفاق رائے پیدا کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا امریکا بھی مستقبل میں فرانس جیسی صورت حال سے دوچار ہوسکتا ہے؟
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق فرانس کے علاوہ برطانیہ سمیت کئی ممالک کو بھی تیزی سے بڑھتے قرضوں، ان پر سود کی ادائیگی کے اخراجات اور مشکل معاشی فیصلے کرنے کے لیے سیاسی اتفاق رائے کی کمی کا سامنا ہے۔ یہ مسائل اس وقت مغربی ممالک کی معیشتوں کے اہم چیلنجز میں شامل ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فرانس اور امریکا کی معاشی صورت حال میں نمایاں فرق بھی موجود ہے۔
فرانس کے مالیاتی مسائل نسبتاً زیادہ سنگین ہیں جب کہ یورپ کے دیگر ممالک تک اس بحران کے پھیلنے کا خطرہ فی الحال کم سمجھا جا رہا ہے۔ فرانس میں عوام کو فراہم کی جانے والی سماجی سہولتوں اور فلاحی نظام پر سرکاری اخراجات کا حصہ امریکا کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
دوسری جانب امریکی معیشت کی اپنی خصوصیات ہیں، جن کی وجہ سے اسے فوری طور پر فرانس جیسی صورت حال کا سامنا ہونے کا امکان نہیں۔
مغربی ممالک کے قرضوں میں اضافہ
یورپ کے سماجی فلاحی نظام پر کئی دہائیوں سے اخراجات بڑھنے کے باعث اس کی مالی پائیداری پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات اور بعض سیاست دان برسوں سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب ان اخراجات کا بوجھ برداشت کرنا مشکل ہوجائے گا۔
ایران جنگ نے بھی مغربی ممالک کے مالیاتی مسائل کو مزید بڑھایا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق رواں سال فروری سے جی سیون ممالک کی معیشتوں میں 10 سالہ سرکاری بانڈز کی اوسط شرحِ منافع میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جو تقریباً 20 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
جی سیون میں امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، کینیڈا اور جاپان شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کی پیش گوئی کے مطابق رواں دہائی کے اختتام تک ان ساتوں ممالک کا مجموعی سرکاری قرض ان کی مجموعی معاشی پیداوار سے بڑھ جائے گا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ ان ممالک کا مجموعی قرض اس سطح تک پہنچے گا۔
فرانس کا سرکاری قرض اس کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 119 فیصد کے برابر ہے، جو یورپی یونین کی مقررہ حد سے تقریباً دوگنا ہے۔ اس کے علاوہ فرانس کا سالانہ بجٹ خسارہ بھی جی ڈی پی کے 5.4 فیصد کے برابر ہے۔
یونیورسٹی آف کینٹ کے سماجی پالیسی کے پروفیسر پیٹر ٹیلر گووبی کے مطابق یورپ میں لوگ بانڈ مارکیٹ اور حکومتوں کے لیے قرض لینے پر ادا کی جانے والی شرحِ سود کے حوالے سے زیادہ پریشان ہوتے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب اس مسئلے کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا کیوں کہ ایسا کرنے سے سنگین بحران پیدا ہوسکتا ہے۔
امریکا کا قرض اور سود کے اخراجات بھی بلند
اعداد و شمار کے مطابق امریکا کی مالیاتی صورت حال بھی تشویش کا باعث ہے۔ امریکی سرکاری قرض تقریباً 32 کھرب ڈالر ہے، جو اس کی سالانہ مجموعی ملکی پیداوار کے تقریباً برابر ہے۔
امریکا کا حال ہی میں مکمل ہونے والے مالی سال کا بجٹ خسارہ تقریباً 2 کھرب ڈالر رہا، جو ملکی جی ڈی پی کے 6 فیصد سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب امریکی سرکاری قرض پر سود کی سالانہ ادائیگی ایک کھرب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے، جو وفاقی حکومت کے مجموعی بجٹ کا تقریباً 14 فیصد ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ امریکی حکومت کو ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی ہر ساتویں ڈالر کی آمدنی صرف قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے خرچ کرنا پڑتی ہے تاہم امریکا میں سرکاری اخراجات کم کرنے اور ٹیکس بڑھانے کے حوالے سے وہ سنجیدہ بحث نہیں ہورہی جو یورپی ممالک میں جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا کے قرضوں اور بجٹ خسارے کے باوجود فی الحال فرانس جیسا فوری بحران متوقع نہیں سمجھا جارہا۔
امریکا کو کون سی چیز بحران سے بچا رہی ہے؟
امریکا کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کی کرنسی، ڈالر، دنیا کی اہم ترین محفوظ اور عالمی ذخیرے کی کرنسی ہے۔ دنیا بھر میں زیادہ تر بین الاقوامی لین دین امریکی ڈالر میں ہوتا ہے، جس میں تیل اور سونا جیسی اہم اشیا کی تجارت بھی شامل ہے۔
امریکی ڈالر کی طلب برقرار رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے نسبتاً محفوظ کرنسی سمجھا جاتا ہے۔ امریکا میں مالیاتی معاملات میں شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے تصور نے ڈالر کو عالمی مالیاتی نظام کا بنیادی حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اگرچہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس کی ساکھ کو کچھ نقصان بھی پہنچا ہے۔
ڈالر کی عالمی حیثیت کے باعث امریکی حکومت کے جاری کردہ ٹریژری بانڈز کی طلب بھی زیادہ رہتی ہے۔ ان بانڈز کو دنیا کے محفوظ ترین سرمایہ کاری کے ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے۔
عالمی سطح پر سرکاری بانڈز کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کے باوجود امریکی بانڈز پر شرحِ منافع دیگر مغربی معیشتوں کے مقابلے میں کم رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے جب اسٹاک مارکیٹوں میں مندی آئی تو سرمایہ کاروں نے امریکی ٹریژری بانڈز کو نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے ان کا رخ کیا، جس کے نتیجے میں ان بانڈز پر شرحِ منافع میں نمایاں کمی ہوئی۔
امریکی معیشت کا حجم اہم
ماہرین کے مطابق فرانس اور امریکا کی مالیاتی صورت حال میں بنیادی فرق ان کی معیشتوں کی نوعیت اور ترقی کی صلاحیت ہے۔ امریکی معیشت حجم میں بہت بڑی اور مختلف شعبوں پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے اسے کسی ایک شعبے میں مندی یا اچانک معاشی دھچکے کا سامنا ہونے پر نسبتاً کم نقصان پہنچتا ہے۔
خصوصاً مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں سرمایہ کاری میں تیزی امریکی معیشت کو سہارا دے رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب معیشت کے کئی دوسرے شعبوں میں جمود یا گراوٹ کے آثار ہیں، اے آئی سے متعلق سرمایہ کاری معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کررہی ہے۔
ماہرین کے مطابق بجٹ خسارے کے اثرات کم کرنے کا ایک اہم طریقہ معیشت کی مضبوط ترقی ہے، اگر ملکی معیشت تیزی سے بڑھتی رہے تو مجموعی معاشی پیداوار کے مقابلے میں قرض کا تناسب کم ہوسکتا ہے اور حکومت کے لیے قرضوں کی ادائیگی نسبتاً آسان ہوجاتی ہے۔
موڈیز اینالیٹکس کے چیف ماہرِ معاشیات مارک زینڈی کے مطابق فرانس اور برطانیہ کی مالیاتی صورت حال ایک دوسرے سے کافی ملتی جلتی ہے لیکن امریکا میں مصنوعی ذہانت کے شعبے سے حاصل ہونے والی معاشی ترقی کے باعث قرضوں کو سنبھالنے اور مالیاتی مشکلات سے نسبتاً بہتر انداز میں نمٹنے کے امکانات زیادہ ہیں۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ امریکا میں فوری طور پر قرضوں کے بحران کا خطرہ کم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں مالیاتی نظم و ضبط کا کوئی مسئلہ نہیں۔ امریکا کی پوزیشن صرف اس لیے مختلف ہے کہ اس کی معیشت فرانس اور برطانیہ کے مقابلے میں ان مسائل کو بہتر انداز میں برداشت کرسکتی ہے۔
مارک زینڈی کے مطابق اس فرق کو اطمینان کی وجہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ دونوں معیشتوں کی مختلف صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔
کیا فرانس کا بحران یورپ کے دیگر ممالک تک پھیل سکتا ہے؟
یورپ میں کسی ایک ملک کے مالیاتی مسائل پیدا ہونے پر یہ خدشہ بھی سامنے آتا ہے کہ بحران دوسرے ممالک تک پھیل سکتا ہے تاہم ماہرینِ معاشیات کی عمومی رائے ہے کہ فرانس کے موجودہ مالیاتی مسائل فی الحال اسی ملک تک محدود رہنے کا امکان رکھتے ہیں۔
یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) نے اشارہ دیا ہے کہ فرانس کی مالیاتی صورت حال میں مداخلت کی ضرورت نہیں ہوگی تاہم اگر ضرورت پڑی تو مرکزی بینک اپنے رکن ممالک کے بانڈز خریدنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے مالیاتی بحران کے دوسرے ممالک تک پھیلنے کے اثرات محدود کیے جاسکتے ہیں۔
کیپٹل اکنامکس کے چیف یورپی ماہرِ معاشیات اینڈریو کیننگھم کے مطابق یورپ کے کئی دوسرے ممالک کا بجٹ خسارہ فرانس کے مقابلے میں بہت کم ہے جب کہ بعض ممالک کے رواں سال بجٹ سرپلس میں رہنے کی توقع ہے۔
فرانس کی بائیں اور دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں بھی یورپی یونین میں شامل رہنے کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ ان میں صدارتی انتخاب میں نمایاں امیدوار اور انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لے پین بھی شامل ہیں، جو ماضی میں یورپی یونین سے علیحدگی کی حمایت کرتی تھیں لیکن اب اس مؤقف سے پیچھے ہٹ چکی ہیں۔
جرمنی کی اے ایف ڈی جماعت یورپی یونین سے علیحدگی کی حمایت کرتی ہے تاہم اینڈریو کیننگھم کے مطابق فی الحال اس جماعت کے لیے حکومت بنانے کے امکانات قریب نہیں ہیں۔
امریکا میں قرضوں کی حد کا مسئلہ نیا بحران پیدا کرسکتا ہے
ماہرین کے مطابق فرانس کے علاوہ کسی دوسرے ملک میں قرضوں کا بحران پیدا ہونے کا ایک ممکنہ سبب امریکا میں قرض لینے کی قانونی حد کا معاملہ بھی بن سکتا ہے۔
امریکا میں کانگریس کی جانب سے مقرر کردہ قرضوں کی حد کو آئندہ سال دوبارہ بڑھانا پڑسکتا ہے، اس کے لیے نئی کانگریس کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوں گے۔
اس معاملے پر سیاسی اختلافات پیدا ہونے کا خدشہ ہے، خصوصاً ایسی صورت میں جب صدر ٹرمپ اپنی مدتِ صدارت کے آخری حصے میں ہوں اور کانگریس میں ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل ہوجائے، ایسی صورت میں ڈیموکریٹس کے لیے صدر کے مطالبات تسلیم کرنا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔
اگر کانگریس قرضوں کی حد میں اضافہ نہ کرسکی تو امریکی حکومت کو اپنے قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے حالانکہ ملک کے پاس دیگر مالی وسائل کے ذریعے ادائیگیاں کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔
مارک زینڈی کے مطابق ایک ایسا منظرنامہ بھی ممکن ہے، جس میں امریکا آئندہ سال اکتوبر کے اختتام تک قرضوں کی مقررہ حد سے تجاوز کرجائے، ایسی صورت میں قرضوں کے مسئلے کے ساتھ مزید مالیاتی اور سیاسی مشکلات بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔
یوں ماہرین کے نزدیک امریکا کو فی الحال فرانس جیسے فوری قرضوں کے بحران کا خطرہ نہیں تاہم بڑھتا ہوا سرکاری قرض، سود کی بھاری ادائیگیاں، بجٹ خسارہ اور قرضوں کی حد پر سیاسی اختلافات مستقبل میں اس کے لیے اہم چیلنج بن سکتے ہیں۔