بنگلہ دیش: بھارتی سفارت کاروں سے ملاقات پر جماعتِ اسلامی کا مؤقف سامنے آگیا

0 minutes, 0 seconds Read

امیر جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش نے عالمی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو سے متعلق وضاحت جاری کرتے ہوئے بھارتی سفارت کاروں سے مبینہ خفیہ ملاقاتوں کی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمٰن نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو سے متعلق پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کی وضاحت کی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے بدھ کے روز برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیا تھا۔ اس دوران ایک صحافی نے اُن سے سوال کیا کہ چونکہ بھارت بنگلہ دیش کا ہمسایہ ملک ہے تو کیا ان کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ، بات چیت یا ملاقات ہوئی ہے۔

شفیق الرحمٰن نے وضاحت کی کہ انہوں نے جواب میں کہا تھا کہ گزشتہ سال جب وہ علاج کے بعد وطن واپس آئے تو بنگلہ دیش اور بیرونِ ملک سے متعدد افراد اُن سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک کے سفارت کاروں کی طرح دو بھارتی سفارت کار بھی اُن کی عیادت کے لیے آئے تھے۔

شفیق الرحمٰن کے مطابق ملاقات کے دوران بھارتی سفارت کاروں کو بتایا گیا تھا کہ تمام سفارتی ملاقاتوں کو عوام کے سامنے لایا جاتا ہے اور ان کی ملاقات کو بھی پبلک کیا جائے گا تاہم بھارتی سفارت کاروں نے اس وقت ملاقات کو پبلک نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

انہوں نے واضح کیا کہ انہیں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ مستقبل میں اگر دونوں ممالک کے مفاد سے متعلق کسی معاملے پر ملاقات ہوئی تو اسے ضرور عوام کے سامنے لایا جائے گا اور اس میں کوئی خفیہ گفتگو نہیں ہوگی۔

شفیق الرحمٰن نے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت ہے کہ بنگلہ دیشی میڈیا کے بعض اداروں نے امیر جماعتِ اسلامی اور بھارت کے درمیان خفیہ ملاقات کی خبریں شائع کیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ ایسی خبریں شائع کرنے سے گریز کیا جائے۔

واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیش میں انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے اور عالمی میڈیا کی نظریں بھی ان انتخابات پر مرکوز ہیں۔

اسی سلسلے میں رائٹرز کے ساتھ انٹرویو میں امیر جماعت اسلامی شفیق الرحمٰن نے بھارتی سفارت کاروں سے ملاقات کا تذکرہ کیا تھا۔ جس کے بعد اس ملاقات کے حوالے سے مختلف چہ مگوئیوں نے جنم لیا تھا۔

تاہم اب جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر نے اِن ملاقاتوں کو خفیہ قرار دینے کی سختی سے تردید کی ہے اور فیس بک اکاؤنٹ پر تفصیلی وضاحت بھی جاری کردی ہے۔

Similar Posts