ایران: مہنگائی کے خلاف احتجاج، مظاہرین کے سرکاری عمارت پر حملے میں سیکیورٹی اہلکار جاں بحق

0 minutes, 0 seconds Read

ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ مغربی صوبے میں مظاہرین کی جانب سے سرکاری عمارت پر حملے میں نیم فوجی انقلابی فورس کا ایک رضاکار اہلکار جاں بحق جبکہ 13 اہلکار زخمی ہو گئے۔ ایرانی صدر نے عوام سے اس صورتحال میں متحد رہنے اور مظاہروں میں بیرونی عناصر کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف اتوار کے روز شروع ہونے والا احتجاج آج چوتھے روز میں داخل ہوگیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق مظاہروں کے دوران مغربی صوبے لورستان میں انقلابی گارڈز کا ایک رضاکار رکن جاں بحق ہو گیا۔ سرکاری حکام نے بھی بدھ کی رات بسیج فورس سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ رضاکار کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ہلاکت کے بعد مظاہرین کے خلاف حکومتی ردعمل مزید سخت ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ دارالحکومت تہران میں احتجاج کی شدت میں کسی حد تک کمی آئی ہے تاہم یہ مظاہرے اب ملک کے دیگر صوبوں تک پھیل رہے ہیں۔

ایرانی بسیج فورس کے قریب سمجھے جانے والے خبر رساں ادارے اسٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک نے لورستان کے نائب گورنر سعید پورعلی کے حوالے سے رضاکار کی ہلاکت کا ذمہ دار مظاہرین کو قرار دیا ہے۔

سعید پورعلی کے مطابق ہلاک رضارکار شہر میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے ہاتھوں شہید ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں بسیج فورس کے مزید 13 ارکان اور پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ مظاہرے معاشی دباؤ، مہنگائی اور کرنسی میں اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہیں اور ان مطالبات کو دانش مندی سے سنا جانا چاہیے تاہم عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے مطالبات کو مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں یرغمال نہ بننے دیں۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے رپورٹ کیا ہے کہ حکومت نے سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں پانچ کو شاہی نظام کے حامی جبکہ دو کو یورپ میں قائم گروہوں سے وابستہ قرار دیا گیا ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق ایک اور کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے 100 اسمگل شدہ پستول بھی برآمد کیے ہیں، تاہم اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

عرب میڈیا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک خطاب میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ حالات میں احتجاج کے بجائے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی صورت حال بہتر بنانے اور شہریوں کی قوتِ خرید میں اضافے کے لیے آئندہ چند گھنٹوں کے اندر نئے فیصلے کر سکتی ہے۔

ایرانی صدر نے حالیہ مظاہروں کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دشمن کی زیادہ تر امیدیں ہمیں معاشی دباؤ کے ذریعے گرانے پر مرکوز ہیں۔ کسی قوم کو بموں، لڑاکا طیاروں یا میزائلوں سے تابع نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا دشمن اگر ہمیں واقعی شکست دینا چاہتا ہے تو اسے میدان میں آ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ اور اگر ہم ثابت قدم رہے اور مل کر کام کرتے رہے تو ان کے لیے ایران کو جھکانا نا ممکن ہو جائے گا۔

یہ مظاہرے تہران سے 400 کلومیٹر سے زائد جنوب مغرب میں واقع شہر کوہِ دشت میں ہورہے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مظاہرین سے مذاکرات کا اشارہ دیا تھا تاہم وہ یہ اعتراف بھی کر چکے ہیں کہ ایرانی کرنسی کی تیزی سے گراوٹ روکنے کے لیے فوری حل محدود ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کی معیشت کئی برسوں سے امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث دباؤ کا شکار ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں ایرانی کرنسی کی قدر میں مزید کمی آئی ہے۔ اِس وقت ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 14 لاکھ ایرانی ریال تک پہنچ چکی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 52 فیصد رہی، جس کے باعث بنیادی ضروریات عوام کی ایک بڑی تعداد کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔

ان مظاہروں کو 2022 کے بعد ایران کا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اُس وقت پولیس حراست میں 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ملک گیر مظاہرے شروع ہوئے تھے تاہم موجودہ احتجاج تاحال پورے ملک میں نہیں پھیلا اور نہ ہی ان کی شدت مہسا امینی کے واقعے کے بعد ہونے والے مظاہروں جیسی ہے۔

Similar Posts