افغانستان میں شدید بارشوں اور سیلاب سے 17 افراد ہلاک، متعدد زخمی

0 minutes, 0 seconds Read

افغانستان کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں اور برف باری کے بعد آنے والے سیلابوں نے معمولات زندگی شدید متاثر کر دیے ہیں اور انسانی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ حکام کے مطابق اس شدید موسم کی وجہ سے کم از کم 17 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہرات کے ضلع کابکان میں ایک مکان کی چھت گرنے سے پانچ افراد جاں بحق ہوگئے جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔ ہرات کے گورنر کے ترجمان محمد یوسف سعیدی نے بتایا کہ یہ خاندان ایک ایسے علاقے میں رہائش پذیر تھا جہاں مٹی کے بنے گھروں کو شدید موسم سے تحفظ حاصل نہیں تھا۔

افغانستان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے این ڈی ایم اے) کے ترجمان محمد یوسف حماد نے کہا کہ مرکزی، شمالی، جنوبی اور مغربی علاقوں میں سیلاب کی وجہ سے روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ سیلاب نے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا، مویشی ہلاک ہوئے اور تقریباً 1800 خاندانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا، خاص طور پر وہ کمیونٹیز جو پہلے سے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔

مرکز سے بھیجی گئی ٹیمیں متاثرہ علاقوں کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ مزید انسانی ضروریات اور امدادی اقدامات کا تعین کیا جا سکے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیلاب کے پانی کی شدت کی وجہ سے ہرات کابل ہائی وے پر ٹرک الٹ گیا، جبکہ ایک بس بھی سیلابی پانی میں پھنس گئی اور لوگ بچنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان، پاکستان اور بھارت جیسے خطے شدید موسمی حالات، خاص طور پر موسمی بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب کے لیے انتہائی حساس ہیں۔ پچھلے برسوں کے تنازعات، ناقص انفراسٹرکچر، جنگلات کی کٹائی، اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے ان قدرتی آفات کے خطرے کو بڑھا دیا ہے، خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں جہاں زیادہ تر مکانات مٹی کے بنے ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ اگست میں افغانستان کے سرحدی علاقے میں 6.0 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس سے 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امدادی کاموں میں رکاوٹیں بھی سیلابوں کی وجہ سے پیدا ہوئیں۔

اقوام متحدہ اور دیگر انسانی ہمدردی کی تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ افغانستان 2026 میں بھی دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحرانوں میں سے ایک ہے۔

Similar Posts