مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی بحران شدید موسمی حالات، مسلسل بارشوں اور طوفانوں کے باعث مزید سنگین ہو چکا ہے جبکہ ناکافی انسانی امداد، بنیادی ضروریات کی شدید قلت اور بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے درکار سامان کی سست رفتار ترسیل نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔
وزرائے خارجہ نے نشاندہی کی کہ خراب موسم نے غزہ میں موجود انسانی حالات کی نازک کیفیت کو بے نقاب کردیا ہے جہاں تقریباً 19 لاکھ بے گھر افراد ناکافی عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
بیان کے مطابق زیرِ آب خیمے، متاثرہ عمارتوں کا گرنا، سرد موسم اور غذائی قلت نے عام شہریوں خصوصاً بچوں، خواتین، بزرگوں اور بیمار افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے جس سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
🔊PR No.0️⃣4️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣5️⃣
Joint Statement by the Foreign Ministers of Pakistan,Egypt, Indonesia, Jordan,Qatar,Saudi Arabia,Turkiye, and the United Arab Emirates https://t.co/xaUMMjjGxW
🔗⬇️ pic.twitter.com/XrrIX3E6KM
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 2, 2026
مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ کے تمام اداروں بالخصوص یو این آر ڈبلیو اے اور بین الاقوامی انسانی تنظیموں کی کاوشوں کو سراہا گیا جو انتہائی مشکل حالات کے باوجود فلسطینی عوام تک امداد پہنچا رہی ہیں۔
وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل اقوام متحدہ اور بین الاقوامی این جی اوز کو غزہ اور مغربی کنارے میں بلا رکاوٹ، مسلسل اور محفوظ انداز میں کام کرنے کی اجازت دے کیونکہ انسانی امدادی عمل میں ان کا کردار ناگزیر ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان اداروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔
بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ وزرائے خارجہ جنگ بندی کے تسلسل، غزہ میں جنگ کے خاتمے، فلسطینی عوام کو باعزت زندگی کی فراہمی اور فلسطینی خودمختاری و ریاست کے قیام کے لیے قابلِ اعتماد راستہ ہموار کرنے کے لیے ان منصوبوں کے مؤثر نفاذ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
وزرائے خارجہ نے فوری طور پر بحالی کے اقدامات شروع کرنے اور انہیں وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا، جن میں سخت سردیوں سے بچاؤ کے لیے پائیدار اور باعزت پناہ گاہوں کی فراہمی شامل ہے۔
مشترکہ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور قابض طاقت ہونے کے ناطے اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ خیموں، پناہ گاہوں کے سامان، طبی امداد، صاف پانی، ایندھن اور صفائی کی سہولیات سمیت ضروری اشیاء کی غزہ میں داخلے اور ترسیل پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔
بیان میں اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے ذریعے بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کی بحالی اور صدر ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے کھولنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔