وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے بلیو اکانومی پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلیو اکانومی پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، ہزار کلومیٹر ساحل اور وسیع سمندری حدود کے باوجود مکمل صلاحیت استعمال نہیں ہو سکی۔
ان کا کہنا تھا کہ گوادر اور کراچی پورٹس کو مرکزی ایشیا کے ساتھ تجارتی روابط کے لیے ترقی دی جا رہی ہے، صرف ماہی گیری نہیں بلکہ پروسیسنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ پر بھی توجہ ضروری ہے، دیگر ممالک نے اپنی سمندری وسائل کے استعمال سے بلیو اکانومی کو معاشی ترقی کا اہم ستون بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سمندری علاقے ملک کی معیشت میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی نے میری ٹائم شعبے کے منصوبوں کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا، گوادر کو طویل المدتی معاشی پلیٹ فارم کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے، فشریز اور ایکوا کلچر میں ویلیو ایڈیشن ملکی معیشت کو فروغ دے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیاحت کے شعبے میں بلیو اکانومی کے امکانات پر بھی کام کیا جا رہا ہے، پاکستان کی جی ڈی پی میں بلیو اکانومی کا حصہ صرف ایک فیصد ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام میری ٹائم پروجیکٹس کے لیے مربوط اور حل مرکوز حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے، اڑان پاکستان کے تحت بلیو اکانومی کو قومی ترقی کا اسٹریٹجک ستون بنایا گیا ہے۔