سہ ماہی شرح نمو میں اضافہ

0 minutes, 0 seconds Read
2026کی پہلی صبح کی کرنوں نے پاکستان کے افق کو چھوا تو فضا میں صرف شبنم کی خنکی نہیں تھی بلکہ اعداد و شمارکی وہ خوشبو تھی جو کہ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی وہ رپورٹ بکھیر رہی تھی جس کا اجرا حال ہی میں ہوا ہے اور یہ ایک ایسی کہانی نظر آئی جس میں معیشت کے شکست و ریخت کے سائے میں امید پروان چڑھتی نظر آرہی تھی۔

ایسا معلوم دے رہا تھا کہ وہ کارخانے جو پچھلے سال سکتے کے عالم میں سسک سسک کر کہہ رہے تھے کہ میری شرح نمو محض 0.12 فی صد رہی لیکن رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کی اس سہ ماہی میں یعنی جولائی تا ستمبر تک اس شرح نے جست لگائی اور 9.38 فی صد تک پہنچ گیا یہ تو صنعتی کارکردگی تھی۔ اس کے ساتھ لائیو اسٹاک کی کارکردگی نے بھی 6.3 فی صد کی شرح افزائش حاصل کی جو ایک حوصلہ افزا عدد ہے۔

اس دوران زراعت کی مجموعی شرح افزائش 2.98 فی صد رہی جسے میں بڑی کامیابی سے تعبیر کر سکتا ہوں،کیونکہ اس میں اگر اگست اور ستمبر کی وہ ستم گریاں مدنظر رکھیں جو کہ اس نے پنجاب و سندھ کے مختلف اضلاع میں ڈھائے کیونکہ بھارت نے جیسے ہی اپنے زور آور ڈیموں کے اسپلزکھولے، اس کی بے رحم موجوں نے زمینوں کی فصلیں گرا دی تھیں، ایسے عالم میں 3 فی صد کی ترقی عین انھی مہینوں میں غنیمت ہے۔

رپورٹ بتا رہی ہے کہ فی کس آمدنی 18 سو ڈالر تک جا پہنچی ہے، لیکن اس میں بڑا حصہ پھر انھی کو چلا جاتا ہے جو دولت کی تقسیم میں اشرافیہ کا ساتھ دیتی ہے اور ملک کی غریب اکثریت منہ تکتی رہ جاتی ہے۔ اس کے باوجود جہاں کئی اعداد و شمار حوصلہ افزا ہوں صنعتی پہیوں کی گردش میں اضافہ، مویشیوں کی افزائش اور زرعی ترقی کی مثبت شرح افزائش اور کئی اعداد مل کر ایسی شرح نمو ترتیب دیتے ہیں جو گزشتہ سال کے شرح نمو 1.56 فی صد سے دگنے سے بھی زیادہ یعنی 3 ماہ کی مجموعی شرح نمو (GDP) 3.71 فی صد حاصل ہوئی۔ پہلے کے مقابلے میں کافی حوصلہ افزا ہے۔ ان اعداد و شمار سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ صنعت کے ساتھ زراعت و لائیو اسٹاک وہ شعبہ ہے جسے بڑھانے کے اقدامات اٹھائے جائیں تو کسانوں کے ہاتھ بھی بہت کچھ لگنے والا ہے،کیونکہ پنجاب و سندھ کی مٹی تو زرخیز ہے لیکن اس مٹی سے جڑے کسان کا نصیب اکثر بنجر ہی رہ جاتا ہے۔

نظام کی بے حسی کے باعث کسان کی جھولی اکثر خالی رہ جاتی ہے لیکن شاید پنجاب کے کھیتوں سے اٹھتی ہوئی امید کی اک نئی لہر کچھ کچھ واضح نظر آنے لگی ہے، کیونکہ پنجاب کے کسانوں کو اپنے کھیتوں میں نواز شریف کسان کارڈ مل رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پلاسٹک کا یہ ٹکڑا کسان کو آڑھتی کے چنگل سے نکال کر کسانوں کے گلے شکوے دھو ڈالے گا۔ وہ کسان جو کبھی علی الصبح اپنے بیلوں کے گلے میں گھنٹی باندھتا تھا، پھر اس کی گھنٹی کی مترنم آواز کے ساتھ ساتھ اپنے کھیتوں تک چلا جاتا تھا اب وہ ٹریکٹر چلا کر بڑی شان بان کے ساتھ اپنے کھیت تک پہنچے گا۔ اب اس کی بھرپور کوشش ہوگی کہ فی ایکڑ پیداوار، پڑوس میں واقع دھرتی کے برابر سے بھی آگے لے کر جائے اور وہ جلد ہی اس میں کامیاب ہو جائے گا کیونکہ فی ایکڑ پیداوار میں صنعتی ملکوں سے مقابلہ کرنے کا ہتھیار اس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پنجاب کے کسان کو بجلی کے بھاری بھرکم بلوں سے نجات دلانے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، یعنی سولرائزیشن آف ٹیوب ویلز کا منصوبہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ اس سے زراعت کی لاگت کم ہوگی، سارا منافع جوکہ بجلی کے بل کھینچ کر لے جاتے تھے اب اس سے خلاصی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کسانوں کو کپاس کی کم پیداوار نے اداس کر رکھا ہے، لہٰذا پنجاب کی وزیر اعلیٰ نے ان کی اداسی کو دور کرنے کے لیے بیجوں اورکھادوں کی بلاتعطل فراہمی پر توجہ مرکوز کر دی ہے دیگر صوبوں کو بھی جلد ازجلد انقلابی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

 پاکستان میں زراعت پر توجہ مرکوز کی جائے اور اس شعبے کو اولین ترجیح دی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہاں کی فی ایکڑ پیداوار ترقی یافتہ ملکوں کا مقابلہ نہ کر سکے۔ زراعت دوست،کسان دوست، اقدامات کو پورے پاکستان تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

پورے پاکستان کے لیے تمام صوبوں کے ساتھ مل کر ہر صوبائی حکومت کے تعاون سے اور وفاقی حکومت کی بھرپور امداد سے کسانوں کے لیے ترجیحی اقدامات کا سلسلہ چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ملک کی خوشحالی کی داستان کھیتوں میں بیٹھ کر سنائی جائے گی۔ کیونکہ جب ملک کے کسانوں کے یہاں خوشحالی آتی ہے تو صنعتیں بھی اپنا پہیہ تیزکر لیتی ہیں۔ معاشی ترقی کا سر فخر سے مزید بلند ہو جاتا ہے اور شرح نمو کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی منزل آسان ہو جاتی ہے۔ پیداوار میں اضافہ مہنگائی کو کم کرنے کا باعث بن کر غریبوں کی آمدن میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔

Similar Posts