تقریبات میں کھانوں کا ضیاع

0 minutes, 0 seconds Read
شادیوں کی تقریبات میں موجودہ مہنگائی کے باعث اب بلائے جانے والے مہمانوں کی تعداد میں کمی ضرور واقع ہو رہی ہے، مگر شادی تقریبات میں کھانوں کو جان بوجھ کر ضایع کرنے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اورکھانے ضایع کرنے کا سلسلہ ویسے ہی برقرار ہے اورکھانا کھائے جانے کے بعد میزوں پر پڑی پلیٹوں میں بچا ہوا کھانا ہماری اخلاقیات اور شرعی تقاضوں کا منہ چڑاتا ہے۔

عام نظر آتا ہے جو بعد میں کسی بھوکے کے منہ تک پہنچنے کے بجائے زیادہ ضایع ہوتا ہے اور اطلاعات کے مطابق ہوٹلوں کو فروخت کردیا جاتا ہے۔ امیروں کی تو بات ہی کیا متوسط طبقے نے شادی کی تقریبات از خود بڑھا رکھی ہیں جو سراسر غیر شرعی اور ہندوانہ ہیں جو ہمارے مسلم معاشرے نے اپنا رکھی ہیں اور ان کے نزدیک شادی کا اہم جز ہیں اور ان اخراجات کے بغیر شادی ادھوری ہے اور وہ غیر شرعی تقریبات منعقد کر کے اپنی فیملی کی خوشی فراہم کرتے ہیں، جوکئی کئی روز تک جاری رہتی ہے اور ان میں لباسوں،کھانوں و دیگر پر اتنا ہی خرچہ ہو جاتا ہے جو شادی پر ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں تقریبات گھروں کے قریب شامیانوں میں منعقد ہوتی ہیں یا مال دار لوگ شادی ہال اور بینکوئٹ بک کراتے ہیں۔کچھ سال قبل کراچی میں غیر قانونی بنائے جانے کے الزام میں لاتعداد شادی ہالوں کو منہدم کیا گیا تھا، جن میں ایسے بھی تھے جو خالی جگہوں پر قبضے کر کے صرف چہار دیواری بنا کر شادیوں کی چھوٹی تعداد کی سہولت کے لیے تھے، جن کے کرائے عام شادی ہالوں سے کم تھے اور غریب لوگ جنھیں اپنے گھروں کے پاس جگہ میسر نہیں ہوتی تھی وہ کم پیسوں میں وہاں اپنی شادیاں کر لیتے تھے۔

اب مہنگے بینکوئٹ بھی بڑی تعداد میں بن گئے ہیں جو عام شادی ہالوں کے مقابلے میں بہت مہنگے ہیں اور وہ اے سی ہونے کے ساتھ بہترین سجاوٹ سے مزین ہوتے ہیں اور پوش علاقوں میں ان کا کرایہ پچاس لاکھ روپے تک وصول کیا جا رہا ہے اور باقی شادی ہالوں اور بینکوئٹس کے کرائے وہاں کے علاقائی لحاظ سے اور معیار کے مطابق مختلف ہوتے ہیں اور شادی کرنے والے اپنی مالی استطاعت کے مطابق وہ کرائے پر لے کر اپنی ضرورت پوری کر لیتے ہیں۔

 امیر ترین لوگ اے سی بینکوئٹ، متوسط طبقہ شادی ہال اور غریب لوگ اپنے علاقوں میں ٹینٹ لگوا کر اپنی تقریب منعقد کر لیتے ہیں، مگر ان میں کھانوں کا ضیاع مشترک ہے۔ لاتعداد کھانوں والے مہنگے بینکوئٹ ہوں یا غریبوں کے ٹینٹوں میں منعقد تقریب میں صرف پلاؤ زردے پر غریبانہ کھانا ہر جگہ کھانوں کے ضیاع کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔

امیرانہ تقریبات میں مدعو مہمان جو خود بھی امیر و کبیر اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، کھانا کھلتے ہی پہلے ان کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں جو اپنے گھروں میں آئے دن کھاتے یا کھا سکتے ہیں وہ اپنی پلیٹیں بھر لیتے ہیں اور اگر پسند نہ آئیں تو بھری پلیٹ چھوڑ کر دوسری پلیٹ اٹھا کر دوسرا من پسند کھانا اٹھا لیتے ہیں اور ان کی چھوڑی ہوئی پلیٹ میں موجود کھانا بعد میں ضایع کر دیا جاتا ہے۔ غریبانہ شادیوں میں ایک دو ڈش ہوتی ہیں اور جس کے ہاتھ کھانا نکالنے کا چمچہ لگ جائے وہ پلیٹ اس طرح بھرتا ہے کہ کہیں کھانا ختم نہ ہو جائے۔

ہر تقریب میں بچے بھی کھانا ضایع کرنے میں کم نہیں، وہ بھی پلیٹ اتنی بھر لیتے ہیں جتنا کھانا ان سے کھایا نہیں جاتا اور بچا ہوا کھانا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جن تقریبات میں کولڈ ڈرنک ہوتی ہے، وہاں کئی کئی بوتلیں اٹھا لی جاتی ہیں اور پوری بوتل ختم کیے بغیر باقی مشروب بوتلوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ شادیوں میں میٹھا عام طور پر کھانا کھانے کے بعد کھایا جاتا ہے مگر اکثر مہمان کھانے کے ساتھ ہی میٹھے سے پلیٹ بھر لیتے ہیں جو ان سے کھایا نہیں جاتا اور چھوڑ کر اگر میٹھے کی ڈش زیادہ ہو تو وہ اٹھا لیا جاتا ہے۔ تقریبات میں آئس کریم دیگر میٹھوں کی طرح میزوں پر نہیں رکھی جاتی اور آئس کریم کی فراہمی چھری سے کاٹ کر پیس کی صورت میں دی جاتی ہے جو ضایع نہیں ہوتی اور باقی کھانوں کا پلیٹوں میں حشر نشر نظر آتا ہے۔

سیلانی ٹرسٹ کے سربراہ مولانا بشیر فاروق کے مطابق تقریبات میں صرف پچاس فی صد کھانا کھایا اور باقی 50 فی صد جان بوجھ کر ضایع کیا جاتا ہے جو شرعی طور پر بھی جائز نہیں مگر پھر بھی کھانا ضایع کرنے کا سلسلہ نہیں رک رہا جب کہ غریبوں کو سادہ روٹی بھی میسر نہیں ہے اور لاکھوں افراد بھوکے رہ جاتے ہیں۔ سمجھانے کے باوجود تقریبات میں کھانا ضایع کیا جاتا ہے، اگر مہمان حضرات تھوڑا خیال کر لیں اور اپنی پلیٹوں میں اتنا ہی کھانا ڈالیں جتنا وہ کھا سکتے ہیں تو کھانا ضایع ہونے سے بچ سکتا اورکھانوں کا انتظام کرنے والے میزبان صاف بچا ہوا کھانا ضرورت مندوں کو فراہم کر سکتے ہیں جب کہ میزوں پر پلیٹوں میں بچا ہوا کھانا ضایع ہوتا ہے جو بعد میں استعمال نہیں ہو سکتا۔

تقریبات میں میزبان اپنے مہمانوں کی تعداد سے زیادہ ہی کھانے پکواتے ہیں مگر مہمان جس طرح کھانا چھوڑکر بھری پلیٹیں چھوڑ دیتے ہیں۔ اس سے کھانا ضایع ہی نہیں ہوتا بلکہ کم بھی پڑ جاتا ہے اور میزبان کی بے عزتی کا باعث بنتا ہے مگر کھانا ضایع کرنے والوں کو احساس نہیں ہوتا۔

Similar Posts