عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی بیوی سیلیا فلورس کے خلاف متعدد سنگین الزامات عائد کر دیے۔
ان الزامات میں نارکو- ٹیرازم (منشیات دہشت گردی)، کوکین اسمگلنگ، مشین گنز اور تباہ کن آلات رکھنے اور امریکا کے خلاف سازش کرنا شامل ہیں۔
الزامات کی یہ فہرست امریکی اٹارنی جنرل پیم بانڈی نے ایکس (X) پر جاری اپنے پیغام میں شیئر کی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان الزامات پر امریکی عدالتوں کا جلد سامنا کرنا ہوگا۔
امریکی اٹارنی جنرل کے بقول یہ الزامات نیو یارک کے سدرن ڈسٹرکٹ میں درج کیے گئے ہیں جہاں انھیں فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔
Nicolas Maduro and his wife, Cilia Flores, have been indicted in the Southern District of New York. Nicolas Maduro has been charged with Narco-Terrorism Conspiracy, Cocaine Importation Conspiracy, Possession of Machineguns and Destructive Devices, and Conspiracy to Possess…
— Attorney General Pamela Bondi (@AGPamBondi) January 3, 2026
درحقیقت 2020 میں ہی نکولس مادورو اور کئی دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
جن میں الزام تھا کہ وہ “کارٹل آف دی سَنز” جیسی منشیات نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر امریکہ میں کوکین سپلائی کر رہے تھے جسے امریکا نے نارکو- ٹیرازم اور دہشت گردی سے منسوب کیا تھا۔
ماضی میں امریکی محکمہ خزانہ نے وینزویلا کے صدر مادورو ان کے اہل خانہ اور ان کے قریبی ساتھیوں کو سزائیں اور مالی پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔
امریکا کی ان پابندیوں کا مقصد منشیات اور بدعنوانی سے منسلک نیٹ ورک کا خاتمہ تھا۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلا پر تابڑ توڑ حملوں اور امریکی فوجیوں کی کارروائی میں صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ان دونوں کو گرفتار کرکے وینزویلا سے بیرون ملک بھی منتقل کردیا گیا ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ کس ملک بھیجا گیا ہے۔
البتہ امریکی وزرا اور سینیٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو امریکا منتقل کرکے مقدمہ چلایا جائے گا جس کی تصدیق امریکی اٹارنی جنرل کے بیان سے بھی ہوتی ہے۔