وینزویلا پر امریکی حملہ؛ چین، روس، برطانیہ سمیت دیگر ممالک کا سخت ردعمل

0 minutes, 0 seconds Read
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا میں صدر نیکولس مادورو کے خلاف کارروائی اور گرفتاری کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر بھونچال آگیا ہے جہاں لاطینی امریکا کے ممالک کی جانب سے ملاجلا ردعمل آیا تاہم دیگر ممالک نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسائل کا پرامن حل نکالنے اور عالمی قانون کے احترام پر زور دیا ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق لاطینی امریکی ممالک تقسیم ہے جہاں متعدد ممالک نے امریکی اقدام کی مذمت کی تو چند ممالک میں نیکولس مادورو کی برطرفی پر جشن منایا جا رہا ہے۔

خطے کے بیشتر ممالک طویل عرصے سے 20ویں صدی میں ہونے والی امریکا کی مسلسل مداخلت کی واپسی کے خدشات کے پیش نظر محتاط رہے ہیں کیونکہ خطے میں ماضی میں امریکا کی مداخلت کی وجہ سے چلی سے ہونڈوراس تک آمرانہ حکومتیں قائم ہوئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ لاطینی امریکا کے کئی ممالک میں حالیہ برسوں میں انتخابات کے دوران دائیں بازو کی طرف جھکاؤ بھی دیکھنے میں آیا ہے، جہاں بہت سے رہنما گزشتہ صدی میں امریکی حمایت یافتہ فوجی حکومتوں کو سوشلزم کے خلاف ایک ضروری ڈھال کے طور پر دیکھتے ہیں۔

امریکی کارروائی سے قبل حالیہ برسوں میں خطے کے متعدد ممالک میں منظم جرائم میں اضافہ ہوا ہے اور وینزویلا کے گینگ ٹرین دے اراگوا کا خوف ووٹروں کے ذہنوں پر چھایا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایسے سیاست دانوں کو تقویت ملی ہے جو جرائم اور امیگریشن کے خلاف سخت کارروائی کے وعدے کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ سمیت برطانیہ، جرمنی، روس، چین، فرانس اور کینیڈا اور دیگر ممالک کی جانب سے وینزویلا میں کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اورچند ایک ممالک نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا ردعمل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ یہ اقدامات ایک بدترین مثال قائم کر رہے ہیں۔

انتونیو گوتریس نے زور دیا کہ تمام فریقین کو اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت عالمی قانون کا مکمل طور پر احترام ضروری ہے۔

انہوں نے عالمی قوانین پر پر عمل درآمد نہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

چین کا امریکی اقدام پر شدید مذمت کا اظہار

چین کی وزارت خارجہ نے وینزویلا کے اندر کارروائی پر ردعمل میں کہا کہ چین کو بدترین دھچکا لگا ہے اور ایک خودمختار ملک کے خلاف امریکا کی جانب سے فوج کے استعمال پر بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک خودمختار ملک کے صدر کے خلاف فورس کا استعمال انتہائی قابل مذمت ہے۔

برطانوی وزیراعظم کا بیان

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے برطانوی میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ میں چاہتا ہوں سب سے پہلے حقائق سامنے رکھوں،  صدر ٹرمپ سے بات کرنے کا خواہاں ہوں اور اتحادیوں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں پورے یقین سے واضح کر سکتا ہوں کہ ہم اس میں ملوث نہیں ہیں اور میں ہمیشہ کہتا اور یقین رکھتا ہوں کہ ہم سب کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔

جرمنی کا ردعمل

جرمنی کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ ہم تمام متعلقہ فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں وہ صورت حال کو مزید کشیدہ بنانے سے گریز کریں اور سیاسی حل نکالنے کی کوشش کریں۔

بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی قانون کا احترام کیا جائے اور وینزویلا پرامن اور جمہوری مستقل کا حق حاصل ہے۔

مادور کی گرفتاری اصولوں کی خلاف ورزی ہے، فرانس

فرانس کے صدر جیئن نوئیل بیروٹ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ نیکولس مادورو کی گرفتاری کا باعث بننے والی فوجی کارروائی طاقت کے استعمال سے گریز کے اصول کی خلاف ورزی ہے جو بین الاقوامی قانون کی بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ فرانس اس بات کو دہراتا ہے کہ کوئی بھی حل جو باہر سے مسلط کیا جائے وہ پائیدار سیاسی حل نہیں ہوسکتا اور اس ملک کے خودمختار عوام ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔

امریکا نے وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت کی ہے، روس

روس نے مذمتی بیان میں کہا کہ امریکا نے آج وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت کا ارتکاب کیا ہے جو انتہائی تشویش ناک اور قابل مذمت ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس کارروائی کی وضاحت کے لیے جو وجوہات تراشی گئی ہیں وہ بے بنیاد ہیں، نظریاتی دشمنی نے کاروباری حقیقت پسندی، اعتماد اور پیش بینی کے تحت تعلقات استوار کرنے کی خواہش پر غلبہ پالیا ہے۔

روس نے کہا کہ اس صورت حال میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ معاملات کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔

جنوبی افریقہ کا سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس کا مطالبہ

جنوبی افریقہ کے بین الاقوامی تعلقات کے ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنوبی افریقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتا ہے کہ ادارے کی ذمہ داری ہے کہ بین الاقوامی امن اور سلامتی برقرار رکھی جائے۔

بیان میں کہا گیا کہ صورت حال کا حل نکالنے کے لیے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے۔

فریقین عالمی قانون کا احترام کریں، کینیڈا

کینیڈا نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام فریقین بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور وینزویلا کے عوام اور ان کی پرامن اور جمہوری معاشرے میں رہنے کی خواہش کا ساتھ دیں۔

بیان میں کہا گیا کہ کینیڈا اپنے عالمی شراکت داروں سے رابطے کر رہا ہے اور صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

برازیل کے صد لولا کا سخت ردعمل

وینزویلا کی حدود میں بم باری اور صدر کی گرفتاری سے ناقابل قبول حد عبور ہوئی ہے، ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے وینزویلا کی خودمختاری پر سنگین حملہ ہوا ہے اور پوری عالمی برادری کے لیے ایک اور انتہائی خطرناک مثال بن گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ممالک پر حملے کرنا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور یہ جارحیت، افراتفری اور عدم استحکام کی طرف پہلا قدم ہے جہاں طاقت ور کا قانون اکثریت پر مسلط ہوتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے خلاف اقدامات کی کھل کر حمایت صرف اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے کی گئی ہے اور یوکرین نے بھی دبے لفظوں میں امریکی اقدام کا ساتھ دیا ہے۔

Similar Posts