وینزویلا کے بعد اگلا ہدف کون؟

0 minutes, 0 seconds Read
امریکی فوج نے براعظم جنوبی امریکا کے ایک اہم اور تیل کی دولت سے مالا مال ملک وینزویلا پر حملہ کرکے اس کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کوگرفتار کرکے نیو یارک منتقل کردیا ہے۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی فوج کے ٹاپ اسپیشل یونٹ ڈیلٹا فورس نے ان کے بیڈ روم سے پکڑا، انھیں کھینچ کر ساتھ لے جایا گیا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کوگرفتار کرنے کی ویڈیو ٹی وی شو کی طرح فلوریڈا میں براہ راست دیکھی۔ ان پر مین ہٹن نیو یارک کی عدالت میں منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کا مقدمہ چلے گا۔ فلوریڈا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکا کے صدرڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وینزویلا میں اقتدار کی منتقلی تک اس ملک کو ہم چلائیں گے، ہماری تیل کی کمپنیاں وینزویلا جائیں گی۔انھوں نے دوٹوک الفاظ میںکہا کہ میری ہدایت پر امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت میں ایک غیرمعمولی آپریشن کیا، امریکی فوج کی فضائی، زمینی اورسمندری طاقت کا شاندار مظاہرہ دیکھا گیا۔

مادورو اور ان کی اہلیہ کو جب گرفتار کیا گیا توکراکس میں مکمل اندھیرا تھا اور بجلی بند تھی۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہاکہ ایرانی جرنیل سلیمانی اورآئی ایس کے سربراہ البغدادی کو بھی ہم نے اسی طرح نشانہ بنایا تھا، ایران کی جوہری تنصیبات کو بھی اسی طرح کے حملے میں تباہ کردیا تھا، ہم نے تمام اہداف کو بالکل درست نشانہ بنایا، دنیا میں کوئی اور ملک ایسا کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد پوری دنیا نے ایسا حملہ نہیں دیکھا۔ انھوں نے وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر بھی کردی ہے۔ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اس موقع پرکہا ہے کہ مادورو کی گرفتاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ صدر ٹرمپ جو کہتے ہیں، وہ کرتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکا کے وزیر دفاع کے جنرل ڈین کین نے کہا کہ یہ کارروائی صدر ٹرمپ کے حکم پر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کی گئی۔امریکی فوجی سربراہ کے مطابق اس آپریشن کی تیاری کئی ماہ سے جاری تھی اور اس میں دہائیوں کے عسکری تجربے سے فائدہ اٹھایا گیا۔

زمینی، فضائی اور بحری افواج نے مشترکہ طور پر کارروائی کی جب کہ سی آئی اے، این ایس اے، این جی اے اور دیگر انٹیلی جنس اداروں نے بھرپور تعاون فراہم کیا۔جنرل ڈین کین نے بتایا کہ آپریشن میں 150 سے زائد طیاروں نے حصہ لیا، جنھیں 20 مختلف زمینی اور بحری اڈوں سے روانہ کیا گیا۔ فضائی بیڑے میں ایف 22، ایف 35، ایف 18، ای اے 18، ای 2، بی ون بمبار اور دیگر سپورٹ طیارے شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی جوائنٹ فورسز کے لیے ناکامی کوئی آپشن نہیں تھی۔

امریکا اور وینزویلا کے درمیان خاصے عرصے سے کشیدگی چلی آ رہی تھی‘وینزویلا کے سابق صدرہوگوشاویزکے دور میں بھی جنگ جیسے حالات پیدا ہوئے تھے لیکن معاملات جنگ تک نہیں پہنچے۔صدر ٹرمپ حکومت کے اٹارنی جنرل نے7 اگست 2025 کو وینزویلاکے صدر مادوروکی گرفتاری پر 50 ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔یوں یہ واضح تھا کہ امریکا کسی بھی وقت وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ادھر وینزویلا نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دے دیا ۔روس‘ چین ‘برازیل ‘کولمبیا ‘میکسیکو اورکیوبا نے وینزویلا پر امریکی حملے اور صدر اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری اور امریکا منتقلی کی شدید مذمت کی ہے۔ اسپین نے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ امریکی کارروائی میں کسی بھی طرح شامل نہیں تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ اس کارروائی کی مذمت کریں گے تو اسٹارمر نے کہا کہ وہ پہلے ٹرمپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ عالمی قوانین کی سب کو پاسداری کرنی چاہیے۔ وینزویلا کی سپریم کورٹ نے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو ملک کا عبوری صدر مقرر کر دیا ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق ڈیلسی روڈریگز عبوری حیثیت میں صدر کے تمام اختیارات، فرائض اور ذمے داریاں سنبھالیں گی تاکہ ریاستی امور میں تسلسل اور قومی دفاع کو یقینی بنایا جا سکے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مادورو کو تاحال مستقل طور پر عہدے سے معزول قرار نہیں دیا گیا، کیونکہ آئینی طور پر ایسا فیصلہ ہونے کی صورت میں 30 دن کے اندر انتخابات کرانا لازم ہوتا ہے۔

وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا اپنے دفاع اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی صورت کسی ملک کی کالونی نہیں بنے گا۔قوم سے خطاب کرتے ہوئے ڈیلسی روڈریگز نے کہا کہ صدر نکولس مادورو کو اغوا کیا گیا ہے اور وہی وینزویلا کے آئینی صدر ہیں۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک کے دفاع کے لیے صبر، اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔نائب صدر نے واضح کیا کہ وینزویلا اپنے قدرتی وسائل پر کسی بیرونی قبضے کو قبول نہیں کرے گا۔امریکا کے اس حملے نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔

لاطینی امریکا کے کئی ممالک خود کو خطرے میں محسوس کر رہے ہیں‘ ان میں کولمبیا‘میکسیکو‘برازیل اور کیوبا شامل ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پیر( آج) کے روز ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی، جس میں وینزویلا میں امریکا کی فوجی کارروائی پر بڑھتی ہوئی عالمی تشویش اور بین الاقوامی نظام کو لاحق ممکنہ خطرات پر غور کیا جائے گا۔یہ اجلاس کولمبیا کی درخواست پر بلایا گیا، جس کی چین اور روس نے حمایت کی، جب کہ وینزویلا نے بھی باضابطہ طور پر سلامتی کونسل سے رجوع کیا ہے۔

اجلاس ’’بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات‘‘ کے ایجنڈے کے تحت ہوگا اور سیکریٹری جنرل کونسل کے ارکان کو بریفنگ دیں گے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ وینزویلا میں حالیہ پیش رفت بین الاقوامی قانون کے لیے ایک خطرناک مثال بن سکتی ہے۔ان کے ترجمان کے مطابق سیکریٹری جنرل اس بات پر شدید فکرمند ہیں کہ امریکا کی کارروائی سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

وینزویلا میں صدر نکولس مادورو کو اٹھائے جانے کے بعد لاطینی امریکا کے دیگر ممالک میں بھی کارروائیوں کے امکانات بڑھ گئے۔امریکی صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کولمبیا کے صدر کو محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ کولمبیا سے منشیات تیار ہو کر امریکا پہنچ رہی ہیں۔کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اپنے ردعمل میں امریکا کی وینزویلا میں کارروائی کو لاطینی امریکا کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں انسانی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔

گستاوو پیٹرو اس سے قبل بھی کیریبین میں امریکی فوجی تعیناتیوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں، ان تعیناتیوں کو امریکی حکومت منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی قرار دیتی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کولمبیا میں منشیات تیار کرنے والی لیبارٹریوں پر حملوں کے امکان کو رد نہیں کریں گے۔

لاطینی امریکا کے بارے میں وسیع تر امریکی پالیسی پر بات کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مغربی نصف کرے میں امریکی برتری پر کوئی سوال نہیں اٹھنے دیا جائے گا، امریکا اپنے اردگرد مستحکم اور اچھے ہمسایہ ممالک چاہتا ہے، جب کہ وینزویلا کے توانائی کے ذخائر کو بھی انھوں نے امریکا کے لیے اہم قرار دیا۔ادھر وینزویلا کی مغرب نواز نوبل انعام یافتہ اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وینزویلا کی حکومت سنبھال سکتی ہیں،انھوں نے امریکا اور اسرائیل کو وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی کی اپیل بھی کی تھی تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماریا کورینا کی مقبولیت اور اندرونی حمایت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے ملک کی قیادت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذہن میں وینزویلا کے حوالے سے کوئی دوسرا پلان موجود ہے ‘کیوبا بھی خطرے میں ہے‘امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اشارتاً کہا بھی ہے کہ کیوبا بھی مستقبل میں ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔صدرڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام کے حوالے سے طنز کیا ہے کہ وہ ایک اچھی خاتون ہیں، مگر میکسیکو پر منشیات کے کارٹلز کا اثر و رسوخ ہے۔صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ کئی بار میکسیکو کو کارٹلز کے خلاف امریکی مدد کی پیشکش کر چکے ہیں، مگر میکسیکو کی قیادت نے توجہ نہیں دی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاطینی امریکا میں امریکا مزید کارروائیاں بھی کر سکتا ہے۔

Similar Posts