کچھ بات ناراض بچوں کی

چند برس ہوتے ہیں، میرا بیٹا ماں سے کسی بات پر خفا ہوا تو وہ چلایا:’ پیرنٹس نے تو ہمیشہ نیگیٹو بات ہی کرنی ہوتی ہے۔’

بچہ ناراض تھا، یہ تو واضح تھا لیکن اس موقع پر ایک اور بات بھی سمجھ میں آئی۔ یہ اس کا بدلا ہوا لہجہ تھا۔ بالغ مردوں والا لہجہ جس میں گھن گرج ہوتی ہے۔ معلوم ہوا کہ بیٹا بچپن کو خیرباد کہہ کر لڑکپن کی سرحد پر جا پہنچا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی مجھے اپنے دوست اشفاق احمد کاشف کی یاد آئی۔ کاشف ایک بار والدین سے خفا ہوا تو اس نے کہا:’میں نے جوانی میں پاؤں رکھا ہے، گٹر میں پاؤں نہیں رکھا۔’

میرے چہرے پر مسکراہٹ کی کرنیں چمکنے لگیں تو بیوی نے احتجاج کیا کہ بیٹا ہاتھ سے نکلا جاتا ہے اور تمھیں ہری ہری سوجھ رہی ہے۔ یہ واقعہ مجھے قیصر نظامانی اور فضیلہ قاضی کے لخت جگر زورین کی باتیں پڑھ کر یاد آیا اور میں نے سوچا کہ اپنا یار اشفاق احمد کاشف ہو، میرا بیٹا ریان ہو یا زورین نظامانی، یہ تینوں ایک ہی انداز میں تو سوچ رہے تھے، فرق کیا پڑا ہے؟

ایک فرق پڑا ہے۔ اس فرق پر مجھے بات کرنی ہے لیکن اصول یہ ہے کہ پہلے مشترکات یعنی کامن چیزوں پر بات کی جائے۔ تو مشترک بات یہ ہے کہ ہم سب اپنے اپنے زمانے میں بزرگوں سے خفا رہے ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ دنیا کو جیسے ہم سمجھے ہیں اور جن صلاحیتوں سے اللہ نے ہمیں نوازا ہے، اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یہی ہمارا امتیاز اور فخر ہے۔ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے کام لے کر ہم دنیا کو بدل ڈالیں گے۔ تو کیا ہم نے دنیا بدلی؟

دنیا تو کیا بدلنی تھی، الٹا بومر کا خطاب مل گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بومرز بھی ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور جنریشن زی بھی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہر عہد کی اپنی زبان اور اصطلاحات ہوتی ہے، لوگ ان ہی میں بات کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے بہت کچھ بدل گیا حالانکہ بدلتا کچھ نہیں بس لوگ بدل جاتے ہیں۔ یہ بات ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔

وہ لوگ جو 1968 میں سڑکوں پر نکلے اور انھوں نے ایوب خان کے اقتدار کی چولیں ہلا دیں، اپنے زمانے کی جنریشن زی ہی تھے جیسے بنگلا دیش میں حسینہ واجد کے پندرہ برس پر پھیلے ظلم اور جبر کے نظام کا خاتمہ انھوں نے کیا ہے۔ ان دونوں نسلوں میں فرق صرف عنوان کا ہے۔ پہلے والے نئی ناراض نسل کہلاتے تھے یا اینگری ینگ مین۔ ہمارے بچے جنریشن زی کہلاتے ہیں۔ باقی ساری علامات ایک ہی جیسی ہیں۔ وہی اپنی رائے کی درستی پر اصرار اور اپنی صلاحیتوں نیززور بازو پر اعتماد۔

سوال یہ ہے کہ فرق کیا پڑا ہے؟ فرق زمانے کی رفتار یعنی ٹیکنالوجی کا ہے۔ ‘ بومرز’ پرانے زمانوں کے لوگ تھے، ان کے پاس ایکس، فیس بک، ٹک ٹاک اور انسٹا گرام نہیں تھا، انٹرنیٹ بھی نہیں تھا۔ لے دے کر ایک فلم تھی جس میں امیتابھ بچن کا ڈائیلاگ گونجا، یوں زمانے نے جانا کہ کوئی اینگری ینگ مین بھی ہوتے ہیں لیکن آج کے بچوں کے ہاتھ میں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ایجاد انٹرنیٹ ہے جس کے زور پر آج جو جس جگہ ہے، امیتابھ بچن ہے اور اپنے ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔

ہمارے لخت ہائے جگر یعنی زورین نظامانی اور ان کے ہم عصر بھی یہی کر رہے ہیں۔ کل جب جنریشن الفا اور ان کے بعد جنریشن بیٹا کے پاؤں میں اپنے والدین کا جوتا آنے لگے گا تو وہ بھی اپنے بزرگوں یعنی بومرز کے ساتھ وہی کچھ کریں گے جو جنریشن زی کر رہی ہے۔ گویا یہ ایک کھونٹا ہے جس میں ہم سب بندھے ہوئے ہیں اور اسی کے گرد گھوم رہے ہیں۔ کوئی معنوی یا ٹھوس تبدیلی رونما نہیں ہو رہی۔ اس بات کی تفہیم ہمارا آج کرتا ہے۔

حقیقت کیا ہے، اس بحث میں پڑے بغیر ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ پاکستان میں بانی تحریک انصاف جنریشن زی کے نمائندے ہیں۔ انھیں اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوئے اب تقریباً پندرہ برس ہوتے ہیں۔ چار برس وفاق کی حکومت کے اور تین مدتیں خیبر پختونخوا کی حکومت کی۔ اس صوبے کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی تو ہیں بھی جنریشن زی کے آس پاس کے۔ سوال یہ ہے کہ جنریشن زی کے نمائندے بلکہ ہیروز اب تک کیا بدل پائے ہیں؟ اب تک کچھ کر نہ پانے کا عذر اگر یہ ہے کہ کچھ کرنے ہی نہیں دیا گیا تو حقیقت یہ ہے کہ بومرز کے نمائندوں یعنی نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی مشکلات بھی ایسی ہی تھیں۔ انھیں بھی کام نہیں کرنے دیا گیا۔ انھوں نے جیلیں بھی کاٹیں، جلا وطن بھی ہوئے اور جان سے بھی گئے لیکن بدلا کچھ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کچھ بدلا کیوں نہیں؟

اس کا ایک سبب ہے۔ سبب یہ ہے کہ آزادی کے بعد کم و بیش آٹھ دہائیاں بیت گئیں، اس عرصے میں ہم نے بہت کچھ کر لیا لیکن ایک کام نہیں کیا۔ پورے شعور کے ساتھ منزل کا تعین کر کے منظم نہیں ہو سکے۔ ترقی اور خوشحالی کی معراج پر پہنچنے کا طریقہ ایک ہی ہے یعنی ذہنی بلوغت۔ آسانی کے لیے اسے سیاسی شعور بھی کہہ لیں تو کوئی حرج نہیں۔ ہماری 80 برس کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہم عوام نے جذبات کی لہروں میں بہہ کر کچھ کیا ہو تو کیا ہو، شعور کے زیر سایہ کچھ نہیں کیا۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم اب تک بے سر و سامان پڑے ہیں۔ ہاں!ایک کریڈیٹ البتہ بومرز کا ہے۔

زمانے کے تھپیڑے کھا کر ایک بات ان کی سمجھ میں آ گئی تھی۔ انھوں نے جان لیا تھا کہ باہم لڑنے جھگڑنے میں کچھ نہیں رکھا۔ حالات کو بدلنا ہے تو ایک نیا عُمرانی معاہدہ کرنا ہو گا۔ میثاق جمہوریت اسی معاہدے کا دیپاچہ تھا لیکن تبدیلی کے وفور میں اس کے تار و پود بکھیر دیے گئے۔ اس کے بعد جو ہونا تھا، وہی ہو رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس خرابے میں عافیت کی راہ کیا ہے؟

یہ راستہ زیادہ مشکل نہیں۔ بومرز کو چاہیے کہ وہ انٹرنیٹ سے مسلح نسل کی بات توجہ سے سنیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک درخواست جنریشن زی سے بھی ہے کہ بومرز کی بات پر بھی تھوڑا سا کان دھرنے میں کوئی حرج نہیں۔ مان لیا کہ وہ بڑے لوزر ہیں لیکن بہت کچھ لٹا دینے اور بہت سی مار کھانے کے بعد کچھ نہ کچھ وہ بھی جاننے لگے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے بومرز ہوں یا انٹرنیٹ والے، دونوں ایک ہی گاڑی کے پہیئے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ ان پہئیوں کا رخ ایک طرف نہیں۔ انھیں ایک طرف کرنا ہے۔ منزل دونوں کی ایک ہے لیکن راستے جدا ہیں۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔ ضرورت نیا پہیہ ایجاد کرنے کی نہیں، سیدھا راستہ پکڑنے کی ہے۔ یہ کام شعور کا دامن تھام کر تو یقیناً ہو جائے گا لیکن شور شرابے سے الجھن بڑھے گی اور منزل بھی دور ہو گی۔ تاریخ کا سبق بھی یہی ہے۔

Similar Posts