وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔ مرحوم کی نمازِ جنازہ آج بعد از نمازِ ظہر جامعہ اشرفیہ لاہور میں ادا کی جائے گی۔
مولانا فضل الرحیم اشرفی پاکستان کے بڑے دینی و تعلیمی ادارے جامعہ اشرفیہ کے مہتمم تھے۔ وہ قرآن بورڈ کے چیئرمین اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست بھی رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے متعدد دینی کتابیں بھی تصنیف کیں اور علمی و تعلیمی خدمات کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتے تھے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے مولانا فضل الرحیم اشرفی کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کے خاندان اور دیگر متعلقین سے اظہارِ ہمدردی و تعزیت کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے مولانا فضل الرحیم اشرفی کے انتقال کو علمی حلقوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ سمیت دیگر مذہبی و علمی شخصیات نے بھی مولانا فضل الرحیم اشرفی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔