سوئٹزرلینڈ نے نکولس مادورو کے اثاثے فوری طور پر منجمد کر دیے

0 minutes, 0 seconds Read

سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے وینزویلا کے مغوی صدر نکولس مادورو اور ان کے قریبی ساتھیوں کے اثاثے فوری طور پر منجمد کر دیے ہیں، حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اثاثوں کو ملک سے باہر منتقل ہونے سے روکا جا سکے اور اگر ثابت ہوا کہ یہ اثاثے غیرقانونی طریقے سے حاصل کیے گئے تھے تو سوئٹزرلینڈ یہ اثاثے وینزویلا کے عوام کو واپس کرے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سوئٹزرلینڈ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کے قریبی ساتھیوں کے ملک میں موجود تمام اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ اقدام امریکی فورسز کی جانب سے مادورو کی گرفتاری اور امریکا منتقلی کے بعد کیا گیا۔

سوئٹزرلینڈ کی وفاقی کونسل نے پیر کے روز کہا کہ اثاثہ منجمد کرنے کا حکم فوری طور پر نافذ ہوگیا، پابندی کا حکم 4 سال تک برقرار رہے گا۔ اس پابندی کا مقصد کسی بھی ممکنہ غیر قانونی اثاثے کے ملک سے باہر جانے کو روکنا ہے۔ یہ پابندی 2018 سے وینزویلا پر پہلے سے موجود پابندیوں کے علاوہ ہے۔

وفاقی کونسل نے واضح کیا کہ موجودہ وینزویلا کی حکومت کے اراکین اس اثاثے منجمد ہونے سے متاثر نہیں ہوں گے اور سوئٹزرلینڈ کسی بھی غیر قانونی طور پر حاصل شدہ فنڈ کو واپس کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ یہ وینزویلا کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال ہو۔

بیان میں کہا گیا کہ وینزویلا میں صورت حال غیر مستحکم ہے اور آنے والے دنوں اور ہفتوں میں مختلف نتائج ممکن ہیں۔ سوئس حکومت نے صورت حال پر کڑی نگاہ رکھنے اور تصادم سے گریز کی تلقین کی ہے جب کہ پرامن حل تلاش کرنے کے لیے اپنے وسائل کی پیشکش بھی کی ہے۔

وفاقی کونسل نے کہا کہ ”حالیہ صورت حال میں یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ کسی بھی غیر قانونی طور پر حاصل شدہ اثاثے کو سوئٹزرلینڈ سے منتقل نہ کیا جا سکے۔“

یہ اثاثے منجمد کرنے کا اقدام احتیاطی نوعیت کا ہے اور مادورو اور ان کے قریبی ساتھیوں کو بیرون ملک سیاسی طور پر حساس افراد کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ حکومت نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ مادورو اور ان کے ساتھیوں کے سوئٹزرلینڈ میں کتنے اثاثے موجود ہیں۔

Similar Posts