وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد نے ملاقات کی۔ نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد میں بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء اور طالبات شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے وفد میں شامل تمام طلبہ کو لیپ ٹاپ دینے کا اعلان کیا اور وزیراعلیٰ کی جانب سے طلبا کو بلوچ چادرپہنائی گئی۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں لوگ دیگر صوبوں سے روزگار اور بہتر مواقع کی تلاش میں آتے ہیں، ہم نے سب کیلئے دل کے دروازے کھولے ہیں، اسپتالوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سب صوبوں کے لوگ مستفید ہورہے ہیں، پنجاب کے چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام سے دوسرے صوبوں سے آنے والے بچے بھی مستفید ہوئے، ہزار بیڈ کا نواز شریف کینسر ہسپتال اس لیے بنایا تاکہ پنجاب ہی نہیں پاکستان بھر کے لوگ مستفید ہوں، کبھی سندھی، پنجابی یا کشمیری کا فرق نہیں رکھا، ہم سب پاکستانی ہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں دیگر انفرا اسٹرکچر اور ترقی کا فرق واضح نظر آتا ہے، پنجاب کو زیادہ شیئر ملنے کا پروپیگنڈا غلط ہے، ہر صوبے کو شیئر مل رہا ہے، پنجاب کے پاس پیسے ہیں طلباء کبھی اس بہکاوے میں نہ آئیں، پنجاب میں عوام کا پیسہ عوام پر ہی لگایا جاتا ہے دوسرے صوبوں سے یہی فرق ہے، گڈگورننس سے بہتر کوئی سیاست نہیں ہوسکتی، سیاست پروٹوکول لینے کا نام نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور محنت کرنے کا کام ہے۔
انہوں ںے کہا کہ پنجاب میں سفارش اور رشوت کا کلچر ختم کر دیا، ماضی میں یہاں پیسے لے کر کام ہوتے تھے، حلفاً کہہ سکتی ہوں کوئی بھی افسر سفارش پرنہیں لگایا، ماضی میں ہراسانی، ریپ اور قتل کے واقعات تواتر سے ہورہے تھے، پنجاب کے آئی جی محنتی اور پروفیشنل آفیسر ہیں،اب کئی شہروں میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں، پنجاب میں کرائم کی شرح اب 100 سے 30 فی صد پر آچکی ہے، اب سڑک پر کوئی ہیلمٹ کے بغیر نظر نہیں آتا، شہباز شریف نے لاہور میں پہلا سیف سٹی بنایا اب پورے پنجاب کو سیف سٹی بنا دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2016ء میں نواز شریف نے آئی ایم ایف کو الوداع کہہ دیا تھا، 2018ء میں اسے واپس کون لایا؟ سب جانتے ہیں، جن کی سیاست کا محور دوسروں کو چور، ڈاکو قرار دینا ہو وہ اکانومی کو کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں؟ مانیٹرنگ اور چیکنگ نہ ہو تو کوئی کام نہیں کرتا، جب تک پوری کوشش نہ کی جائے پراجیکٹ برقرار نہیں رہ سکتا، اگر سڑک اور بجلی نہیں ہوگی تو لوگ انڈسٹری کیسے اور کیوں لگائیں گے؟
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں لون لے کر ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی، انفرا اسٹرکچر بنے گا تو ترقی آئے گی،قرض لیا پیسا اپنے اوپر لگایا یا عوام پر لگایا اسی سے فرق پڑتا ہے، انسان فیصلہ کرے کہ کام کرکے چھوڑنا ہے تو کام ہوجاتے ہیں، پیسے نہیں ہیں ورنہ عوام کے لئے اور بہت کچھ کرنا چاہتی ہوںِ، جھوٹے بہکاوے میں نہ آئیں، آپ کا پیسا آپ پر ہی لگنا چاہیے، کسی صوبے کو زیادہ پیسے نہیں ملتے، اپنی حکومت سے تہذیب اور تمیز کے ساتھ سوال ضرور پوچھیں۔