آذربائیجان غزہ میں کسی بھی امن فوج کا حصہ نہیں بنے گا: صدر الہام علیوف

0 minutes, 0 seconds Read

آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ آذربائیجان غزہ میں کسی بھی امن مشن یا امن فوج کا حصہ نہیں بنے گا۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے صدر الہام علیوف نے کہا کہ آذربائیجان کا اپنی سرحدوں سے باہر، بشمول غزہ، کسی بھی قسم کے امن مشن میں فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

صدر علیوف کے مطابق حالیہ دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے آذربائیجان سے اس حوالے سے رابطہ کیا تھا، تاہم آذربائیجان نے اس پر فوری طور پر کوئی عملی پیش رفت کرنے کے بجائے امریکہ کو بیس سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ ارسال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان سوالات کے جوابات ملنے کے باوجود آذربائیجان کا امن فوج میں شرکت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

صدر علیوف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ آذربائیجان اپنی سرحدوں سے باہر کسی بھی قسم کی جنگی کارروائی میں شرکت پر بالکل غور نہیں کر رہا۔

آذربائیجان کے صدر کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی ملک کے قومی مفادات، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے اصولوں کے تحت ترتیب دی جاتی ہے، اور اسی پالیسی کے تحت بیرونِ ملک فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھا گیا۔

صدر آذربائیجان کے اس بیان کو غزہ کی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ آذربائیجان خطے سے باہر کسی بھی عسکری تنازع یا امن مشن میں براہ راست کردار ادا نہیں کرے گا۔

Similar Posts