ایران پر نئے حملوں کی حکمتِ عملی، اسرائیلی آرمی چیف کا امریکی کمانڈر سے رابطہ
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاریوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق وسط مدتی انتخابات کے بعد بھی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران پر ایک ہفتے تک حملے کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق ممکنہ فوجی کارروائی میں ایرانی قیادت، توانائی کے شعبے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی آرمی چیف ایال زمیر اور امریکی کمانڈر بریڈ کوپر کے درمیان حملوں کی تیاریوں کے حوالے سے رابطہ بھی ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ کارروائی کا انحصار امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی صورت حال پر ہوگا، جبکہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان، قطر، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ثالث ممالک دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا راستہ دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ثالث ممالک ایران کو متاثرہ جوہری تنصیبات تک معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے بدلے امریکا کی جانب سے ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
سفارتی کوششوں کا مقصد جوہری تنصیبات کے معائنے سے متعلق معاملات پر پیش رفت کرنا اور امریکا و ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ تاہم، ممکنہ فوجی کارروائی اور مذاکرات کے مستقبل کے حوالے سے صورت حال غیر یقینی ہے۔
رپورٹ میں بیان کردہ حملوں کی تیاریوں اور سفارتی تجاویز کے حوالے سے حتمی معاہدے یا فوجی کارروائی کے آغاز کی تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔