گرین لینڈ کو حاصل کرنے کیلیے فوجی کارروائی خارج از امکان نہیں، وائٹ ہاؤس

0 minutes, 0 seconds Read
وائٹ ہاؤس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں امریکی فوج کے استعمال کا امکان بھی مکمل طور پر خارج نہیں کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے گزشتہ روز جاری بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ کا حصول امریکہ کی قومی سلامتی کی ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ آرکٹک خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ اور دشمن طاقتوں کو روکنے کے لیے یہ نہایت اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر اور ان کی ٹیم اس اہم خارجہ پالیسی ہدف کے حصول کے لیے مختلف راستوں پر غور کر رہی ہے، اور بطور کمانڈر ان چیف امریکی فوج کا استعمال بھی ہمیشہ ایک آپشن ہوتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے رواں ہفتے قانون سازوں کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ گرین لینڈ کو خریدنے کے امکان پر غور کر رہی ہے، تاہم انہوں نے فوری طور پر فوجی مداخلت کے خدشات کو کم اہم قرار دیا۔

 اس معاملے سے آگاہ دو ذرائع کے مطابق، اگرچہ حالیہ مہینوں میں اس موضوع پر عوامی سطح پر بات نہیں کی گئی، لیکن پس پردہ غور و خوض جاری رہا۔

ذرائع کے مطابق مارکو روبیو کی ٹیم کی درخواست پر امریکی محکمہ خارجہ نے حالیہ مہینوں میں گرین لینڈ کے قدرتی وسائل پر ایک تجزیہ بھی تیار کیا، جس میں نایاب معدنیات (ریئر ارتھز) سمیت دیگر غیر استعمال شدہ وسائل شامل ہیں۔

تجزیے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ان وسائل کی اصل مقدار سے متعلق کوئی قابلِ اعتماد تحقیق موجود نہیں، جبکہ شدید سرد موسم اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کے باعث ان وسائل تک رسائی پر بھاری اخراجات آ سکتے ہیں۔

گرین لینڈ جو ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خود مختار خطہ ہے، اپنے قدرتی وسائل اور اسٹریٹجک محلِ وقوع کے باعث عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جبکہ امریکی بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث اور خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

Similar Posts