یمن: ایس ٹی سی رہنما الزبیدی فرار، عسکری کارروائیوں کی ہدایت

0 minutes, 0 seconds Read

یمن کی سعودی حمایت یافتہ اتحادی حکومت نے دعویٰ کیا ہے جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کے رہنما ایداروس الزبیدی سعودی عرب جانے والے طیارے میں سوار ہونے کے بجائے نامعلوم مقام کی طرف فرار ہوگئے ہیں۔ الزبیدی کو بدھ کو سعودی عرب جانے کے لیے طیارے میں سوار ہونا تھا، جہاں انہیں جنوبی یمن کے مسئلے پر ریاض کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنی تھی۔

یمن کی اتحادی حکومت کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق، طیارہ ایس ٹی سی کے کئی سینئر رہنماؤں کو لے کر مقررہ وقت سے تین گھنٹے تاخیر کے بعد روانہ ہوا، مگر الزبیدی اس میں موجود نہیں تھے اور ان کی موجودگی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

المالکی نے کہا کہ اس دوران یہ اطلاعات ملی ہیں کہ الزبیدی بڑی تعداد میں فوجی طاقتوں کو متحرک کر رہے ہیں، انہوں نے ہلکے اور درمیانی درجے کے ہتھیاروں سے مسلح گروپوں کو تیار ہونے کے لیے ہدایات بھی دی ہیں۔

اس پیش رفت کے بعد سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل نے الزبیدی کو رکنیت سے معطل کرکے ان کا معاملہ پبلک پراسیکیوٹر کے حوالے کر دیا ہے۔

ہمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’صبا‘ کے مطابق، کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی نے الزبیدی پر الزام لگایا کہ انہوں نے مسلح بغاوت کی قیادت کی، آئینی حکام پر حملے کروائے اور جنوبی یمن کے شہریوں پر مظالم کیے۔

یمن میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی نے اس خطے میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف بنائے گئے اتحاد کو تقسیم کر دیا ہے۔ حوثیوں نے 2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا اور اگلے ہی سال خلیجی ممالک نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی، جس کے نتیجے میں ملک مختلف علاقوں میں تقسیم ہو گیا۔

اتحادی حکومت نے الزبیدی کی فوجی نقل و حرکت کی نگرانی کے بعد جنوبی صوبے الضالع میں محدود ہوائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں مقامی ذرائع کے مطابق صوبے میں 15 سے زائد حملے کیے گئے، جو الزبیدی کی جائے پیدائش بھی ہے۔

الزبیدی کے فرار اور ان کے خلاف کارروائی کے بعد یمن میں حکومت اور علیحدگی پسند ایس ٹی سی کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ سعودی اتحادی حکومت نے اسے سرکاری اور قانونی کارروائی کے ذریعے قابو میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔

Similar Posts