وہ کھیت کو پانی دے کر سیراب کرتے رہتے ہیں لیکن پانی کھیت میں رکے بغیر کہیں چلاجاتا ہے اورفصل کے ہونٹ تر نہیں ہوپاتے ، کسان اور کاشتکار ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک جاتے ہیں لیکن چورسوراخ ڈھونڈ نہیں پاتے اورصبر شکر کرکے بیٹھ جاتے ہیں کیوں وہ اسے کناروں اور مینڈھیروں کے آس پاس تلاش کرتے ہیں اور وہ دورکہیں بیچ میں ہوتا ہے ، دراصل چوہوں یاکسی اورجانور کا’’بل ‘‘ ہوتا ہے۔
اگر یہ معلوم ہوجائے کہ سوراخ اور پانی کااخراج کہاں ہوتا ہے تو ہوشیار اورتجربہ کارکسان سوراخ کو اخراج کے سرے سے بند کردیتے ہیں ، پانی واپس چلاجاتا ہے اور سوراخ دہانے سے نکلنا یعنی واپس نکلتا ہے یوں چورسوراخ پکڑ لیا جاتا ہے۔
لیکن اگر چاروں اطراف میں دشمنوں کے کھیت ہوں تو وہ اپنے کھیتوں میں ان کو کارروائی نہیں کرنے دیتے۔ ایسے کھیتوں کی فصل ظاہرہے کہ اپنا سرکھا لیتی ہے، البتہ جانور چرتے ہیں یا چڑیاں اس کھیت کو چگھ لیتی ہیں۔
ہمارا بھی ایک ایسا کھیت ہے جسے پاکستان بلکہ کشت پاکستان کہتے ہیں حالانکہ کشت ویراں کہنا چاہیے،اس میں بھی شاید چورسوراخ ہے بلکہ ہیں، کیوں کہ آج تک اسے جتنا پانی دیا گیا وہ ’’باہر‘‘ جاچکا ہے۔
یہ تو معلوم ہے کہ کھیت میں کہیں چورسوراخ ہے لیکن وہ چور سوراخ کہاں ہے یا یہ پتہ نہیں چل پا رہا ہے۔ باہر یا بیرون تو بہت دوردورتک پھیلا ہوا ہے چاروں اطراف میں طرح طرح کے لوگوں کے کھیت ہیں۔
ان کے طرح طرح کے مالک بھی ہیں کچھ سخت طبیعت بھی ہیں جو اپنے کھیتوں میں دیکھنے کی اجازت نہیں دیتے کہ جا کر اس سوراخ کا پتہ لگائیں اور اپنا گمشدہ پانی ڈھونڈیں ، ان کا تو فائدہ اسی میں ہے کہ ہمارا زرخیر پانی ان کے کھیتوں میں جاتا ہے ان کا تو فائدہ اسی میں ہے کہ ہم کبھی اس چورسوراخ کاپتہ نہ لگائیں ، قصور تو ہماری ’’مرغی‘‘ یامرغیوں کا ہے جو کھاتی پیتی یہاں ہیں اور’’انڈے‘‘ دوسروں کے گھروں میں جا کر دیتی ہیں ۔
اوریہ توسوراخ ہو کر بھی ’’سوڑہ‘‘ ہے ، اردو میں تو سوراخ کالفظ ہرقسم کے سوراخ کے لیے استعمال کیاجاتا ہے لیکن پشتو میں ’’سورے‘‘ اس سوراخ کوکہا جاتا ہے جو آر پار نکلا ہو۔
جیسے کسی برتن کا سوراخ ، کاغذ کپڑے میں سوراخ ،دیوار دروازے کا سوراخ وغیرہ ، لیکن ’’سوڑہ‘‘ اس کو کہتے ہیں جو آرپار نہ نکلا ہو ، صرف ایک طرف سے ہو اوردوسری طرف سے بند یا نامعلوم ہو جیسے بعض جانوروں، غار اوربل یا لکڑی،لوہے اورزمین کے سوراخ اوریہ ہمارے کھیت کاسوراخ ، جو اصل میں ’’سوڑہ‘‘ ہے حالانکہ پرانے زمانے میں ایک سادہ لوح بزرگ نے اس کھیت کے بارے میں کہاتھا
نہیں ہے ناامید اقبال اپنے کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
مٹی تو واقعی اس کھیت کی زرخیز تھی اورہے لیکن جب ’’نم‘‘ ہی نکل جاتا ہو اور وہ نم اپنے ساتھ زرخیزی بھی بہا لے جاتا ہے تو پھر
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
لیکن یہاں تھوڑا ایسا فرق ہے یہاں دہقان کو یا جو نمائشی اداکار دہقان ہیں قابض دہقان بھی کہہ سکتے ہیں کہ دعویٰ جھوٹا اورقبضہ سچا ہوتا ہے وہ تو اس کھیت سے سب کچھ حاصل کر رہے ہیں صرف برائے نام ’’مالکوں‘‘ کو بھوکا مار رہے ہیں یہ کہہ کر
چند روز میری جاں فقط چند ہی روز
پھرتخت گرائے جائیں گے پھرراج کرے گی خلق خدا، جب اہل حکم کے سر اوپر۔یہ بجلی کھڑ کھڑ کھڑکے گی ،ہم محکوموں کے پاؤں تلے ، یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی ۔ جب راج کرے گی خلق خدا جو میں ہوں اورتم بھی ہو۔ لیکن یہ نہیں بتاتے کہ کب دیکھیں گے کہ ان گزشتہ ہزاروں سال میں تو وہی ’’کل ‘‘ ہے جو نہ کبھی آئی تھی نہ آئی ہے نہ آئے گی ۔
یہ شاعروصورت گر وافسانہ نویس ان کے ساجھے دار ہی ہیں جو کالانعاموں کو ’’کل‘‘ کا جھانسہ دے کر ’’آج‘‘ لوٹتے ہیں وہ نجومی بھی جوچالیس سال کا جھانسہ دے کر ’’عادی‘‘ بناتا ہے اوروہ حضرات بھی جو ترقی و خوشحالی کی خوش خبریاں سناتے ہیں۔
کل کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ جب آجاتا ہے تو خود ’’آج‘‘ اپنی زبان سے کہتا ہے ورنہ وہ ’’دن‘‘ تو آیا تھا جس کا وعدہ تھا جو لوح ازل پہ لکھا تھا جب خلق خدا کو راج کرنا تھا لیکن
جب پرانے دیس کے پرائیوں نے اس کھیت سے جاکر اپنے کھیت کو مالامال کردیا تو غلغلہ بلند ہوا حسب معمول کچھ کالانعام مرے کچھ کے لیے کچھ جیلوں میں سڑے ، لیکن
پلٹ کے دیکھا تو کچھ بھی نہ تھا ہوا کے سوا
جو میرے ساتھ تھے جانے کدھر گئے چپ چاپ
وہ کم بخت پرائے دیس کے پرائے جاتے جاتے پینترا کر گئے تھے ، اپنی جگہ اپنے لے پالکوں کو بٹھا کر گئے تھے جو ان سے بھی زیادہ بدتر نکلے بلکہ کفن چور کے بیٹے نکلے ؎
سنا ہے باپ نے بیٹے کو یہ وصیت کی
کہ میرے بعد بھی میرا یہ کاروبار چلے
اوروہ چل رہا ہے ، بیٹا باپ کا بھی باپ نکلا
کیاکوئی ہے جو اس چورسوراخ کا پتہ لگائے اوربند کرکے ہمارے کھیت کو ہمارا اورہمارے پانی کو ہمارا پانی بنائے ، ورنہ اب تو ۔
ہوچکیں غالب بلائیں سب تمام
ایک مرگ ناگہانی اور ہے
چورتو چورہوتا ہے چاہے آدمی ہو پنکچر ہو یا سوراخ۔ اورجس گھر میں چورپیدا ہوجاتے ہیں اس کا خداہی حافظ ۔ شیراز کے حافظ نے بھی کہا ہے کہ
چہ دلاوراست دردے کہ بکف چراغ دارد