ڈھاکہ میں سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے پاکستان سے آنے والے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور بھارت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر جے شنکر میں ملاقات ہوئی۔
ڈاکٹر جے شنکر خود ایاز صادق کے پاس آئے اورکہا کہ وہ انھیں جانتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔ بنگلہ دیش کے عارضی سربراہ ڈاکٹر یونس نے دونوں رہنماؤں کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کردی۔
یکم جنوری کو دونوں ممالک نے ایٹمی تنصیبات کی دستاویزکا عالمی قانون کے مطابق تبادلہ کیا اور دونوں ممالک نے اپنی جیلوں میں بند قیدیوں کی فہرستیں ایک دوسرے کو فراہم کیں، جو کہ ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔
گزشتہ سال مئی میں مقبوضہ کشمیر کے سرحدی علاقہ پلواما میں نامعلوم دہشت گردوں کی سیاحوں پر فائرنگ اور پھر بھارت اور پاکستان کے درمیان فضائی جھڑپوں کے بعد تمام روابط منقطع تھے۔
مودی حکومت نے اس کشیدگی کو کھیل کے میدان تک پہنچا دیا تھا۔ دبئی میں ہونے والے کرکٹ ٹورنامنٹ میں اگرچہ بھارتی ٹیم پاکستان کی ٹیم سے مقابلہ کے لیے میدان میں اتری تھی مگر بھارتی ٹیم نے کھیلوں کی قدیم روایت کو نظرانداز کرتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ نہیں کیا اور پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ وزیرداخلہ محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے نہیں آئے تھے۔
مئی میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک نے اپنے بیشتر سفارتی عملے کو واپس بلا لیا تھا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے لیے فضائی حدود بندکردی تھی اور واہگہ بارڈر کے راستے سے ہونے والی تجارت بھی ختم ہوگئی تھی۔
اس صورتحال نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ کیا تھا۔ ایک امریکی تھنک ٹینک کی نئے سال کے بارے میں اپنی پیشگوئی میں یہ بات بھی شامل تھی کہ نئے سال کے دوران دہشت گردی کی وارداتوں کی بناء پر بھارت اور پاکستان میں لڑائی ہوسکتی ہے۔ اس صورتحال نے دونوں ممالک کی معیشت پر برا اثر ڈالا تھا۔
آئی ایم ایف نے گزشتہ سال ایک رپورٹ جاری کی تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ حکومت پاکستان کو پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (P.S.D.P) میں کمی کرنا پڑی تھی اور غیر پیداواری شعبے میں اخراجات بڑھانے پڑے تھے۔
اس رپورٹ کے مندرجات کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال پی ایس ڈی پی کا تخمینہ جو جی ڈی پی کا 7.7فیصد بنتا ہے مختص کیا گیا تھا۔ اس میں 7.8 فیصد تک اضافے کی گنجائش تھی مگر اس کو کم کر کے جی ڈی پی کا 6.5 فیصد کیا گیا جس میں 6.7 فیصد تک اضافے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔
ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص رقم کم کرنے کے کئی نقصانات ہوئے۔ حکومت کو کئی وفاقی منصوبوں کے لیے مختص رقم کو کم کرنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں ترقی کا عمل متاثر ہوا تھا۔ مئی میں دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں کے بعد فضائی حدود بند کردی گئی۔ اس بناء پر دونوں ممالک کو اب تک کئی ارب ڈالرکا نقصان ہوا ہے۔
بھارت دنیا کی 50 فیصد سے زیادہ ویکسین تیار کرتا ہے۔ یہ ویکسین پولیو کے قطروں سے لے کر انسانوں کو جانوروں کے کاٹنے خاص طور پرکتے کے کاٹنے سے پیدا ہونے والے جراثیم کے خاتمے کے لیے سب سے زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہے۔
یہ ویکسین بند ہونے سے ملک میں ویکسین کی قلت پیدا ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ چین اور دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی ویکسین زیادہ مہنگی ہوتی ہے۔
حکومت نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین کی تیاری کا پروجیکٹ شروع کیا ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں تیار ہونے والی ویکسین ملک کی ضروریات سے کم ہے، یہی وجہ ہے کہ سندھ میں گزشتہ سال کتے کے کاٹنے کے مرض میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو ہندسوں میں بتائی گئی ہے۔
بھارت سے ادویات کی تیاری کا خام مال آتا تھا جو فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے لیے انتہائی ضروری تھا۔ یہ سامان دبئی کے راستہ سے آتا ہے۔ پاکستان کی سبزیاں اور پھل بھارت میں ہمیشہ سے مقبول رہے ہیں۔
سندھ یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر بدر سومرو کا تعلق خیرپور ضلع سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے ضلع میں کھجورکی اعلیٰ اقسام پیدا ہوتی ہیں، ان کھجوروں کی سب سے بڑی منڈی بھارت ہے۔ یہ منڈی کھونے سے کاشت کار اچھے منافع سے محروم ہوگئے۔
افغانستان سے سامان واہگہ بارڈر کے راستہ بھارت جاتا تھا اور بھارت کا سامان افغانستان جاتا ہے۔ اب پاکستان کو آکٹرائی کی مد میں بڑی آمدنی ہوتی تھی اور افغانستان کے تاجر پاکستان کے ممنون ہوتے تھے، مگر یہ راستہ بند ہونے سے افغانستان کی حکومت نے متبادل راستہ تلاش کیا ہے جو مستقبل میں پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
دونوں ممالک کے تعلقات منقطع ہونے سے منقسم خاندانوں اور مہلک امراض میں مبتلا شہریوں کے علاج کے لیے بھارت جانے والے شہریوں کے لیے سخت مشکلات کھڑی ہوگئیں، اگرچہ ہندوستان کے بٹوارے کو 79 سال ہونے کو ہیں مگر آج بھی منقسم خاندانوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
ان میں تمام مذاہب کے پیروکار شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے دونوں ممالک کے ہائی کمشنر کا درجہ کم کر دیا ہے۔ اس بناء پر دہلی اور اسلام آباد کے ہائی کمیشن میں ضروری عملہ موجود نہیں ہیں۔ ویزے کے معاملات اجازت سے منسلک ہیں۔
دہلی اور لاہور کے درمیان چلنے والی دوستی بس اور ریل گاڑی کی سروس بھی بند ہے، اگر دونوںممالک کے کسی غریب شہری کو کسی طرح ویزا مل بھی جائے تو سفر مہنگا ہوگیا ہے۔ خاص طور پر جو خواتین مردوں کے بغیر سفرکرتی ہیں وہ سخت مشکلات کا شکار رہتی ہیں۔
ایک اہم معاملہ دونوں اطراف کے ماہی گیروں کی گرفتاریوں کا ہے۔ یہ ماہی گیر سمندر میں راستہ بھول کر دوسرے ملک کی سرحد میں داخل ہوجاتے ہیں اور پھر انھیں گرفتارکرکے جیلوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات تو کئی کئی سال یہ جیلوں میں بند رہتے ہیں۔
کچھ تو جیلوں میں انتقال کرجاتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل یورپی ممالک کی طرح موجود ہے۔ یہ مسئلہ اب حل ہو ہی جانا چاہیے۔ پھر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ گلوبل وارمنگ کا ہے، اگر دہلی، بھارتی پنجاب اور ہریانہ کے کسان فصلوں کی باقیات کو نذرِآتش کرتے ہیں، تو اس سے لاہور اور اطراف کے تمام شہر متاثر ہوتے ہیں۔ پنجاب کی حکومت کو ان اثرات کو ختم کرنے کے لیے کئی اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ جب تک دونوں ممالک مذاکرات نہیں کریں گے، اس مسئلے کا کوئی تدارک نہیں ہوگا۔
گزشتہ سال بھارت میں ہونے والی طوفانی بارشوں سے تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب برپا ہوا۔ اس سیلاب نے پاکستان کے علاقہ وسیب میں زبردست تباہی مچائی۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے سے لاتعلقی کا اظہارکیا ہوا ہے۔
اس معاہدے کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ کوئی بات چیت ہو اور اس مسئلے کا حل نکل آئے۔ بھارت کی حکومت کو اس بات کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ ان کے علاقے سے آنے والے پانی سے پاکستان میں تباہی آئے گی، غریب لوگ مارے جائیں گے اور اس کے اثرات سرحد کی دوسری طرح بھی جائیں گے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک بڑا مسئلہ کشمیرکا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل شملہ معاہدے میں موجود ہے۔ ایک اہم مسئلہ دونوں ممالک میں ہونے والی دہشت گردی کا ہے۔ جو شکایات بھارت کو ہیں وہی شکایات پاکستان کو بھی ہیں۔ اس صورتحال میں دنیا کے مہذب ممالک کی طرز پر مذاکرات سے اس کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
اس بات پر تو کوئی بحث نہیں ہے کہ پڑوسی تبدیل نہیں ہوسکتے اور دونوں ممالک کے کچھ مسائل ہیں۔ ان میں ایک غربت کا خاتمہ ہے، اگرچہ بھارت دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن گیا ہے اور عالمی اداروں کی جاری کردہ رپورٹوں کے مطابق صدر ٹرمپ نے بھارت پر عائد ٹیرف جو 50 فیصد کیا ہے بھارت اس نقصان کو برداشت کرگیا ہے مگر پڑوسی ملک سے خراب تعلقات کی بناء پر اسلحے کی خریداری پر بھاری رقم خرچ کرنا کسی صورت بھارت کے مفاد میں نہیں ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ مارکنڈے جو سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی بناء پر مشہور ہیں نے بھارت اور پاکستان کی جنگی جھڑپوں پر یہ تبصرہ کیا تھا کہ یہ جھڑپیں فرانس اور چین کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کی پروڈکٹ کا امتحان تھا۔ اس بناء پر دونوں ممالک کا اسلحہ کی دوڑ میں شامل ہونا پورے خطے کے غریب عوام کے لیے خطرناک ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر اورکراچی یونیورسٹی کے سینئر استاد پروفیسر سکندر مہدی نے ڈاکٹر جے شنکر اور ایاز صادق کی مختصر ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات کو کوئی بڑا بریک تھرو نہیں کہا جاسکتا، مگر یہ حقیقت ہے کہ کچھ صورتحال بہتر ہوئی ہے، اگر بھارت اور پاکستان مذاکرات پر آمادہ ہوجائیں تو کروڑوں افراد کے لیے یہ بڑی خوش خبری ہوگی۔