بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے ان دہشت گردوں نے شہر سے باہر رئیس گوٹھ میں کرائے کے مکان میں بھاری تعداد میں کراچی کے کسی پرہجوم مقام پر یہ اسلحہ پہنچا کر تباہی پھیلانا تھی۔
کراچی سے بلوچستان جانے والی شاہراہ کے قریب رئیس گوٹھ کے مکان سے بارود سے بھرا مزدا ٹرک، 30 پلاسٹک ڈرم، 4 دھاتی گیس سیلنڈر اور دو ہزار کلو سے زائد بارودی مواد، پرائمرکارڈ اور مختلف اقسام کے ڈیٹونیٹرز برآمد کر لیے گئے ہیں۔
سی ٹی ڈی کے مطابق مذکورہ مکان میں یہ بارودی مواد تیار کیا جا رہا تھا جس کی اطلاع پر مختلف جگہوں پر تعینات اہلکاروں کی مدد سے مذکورہ مکان کا سراغ لگا کر سی ٹی ڈی نے یہ کامیاب کارروائی کی ہے۔
کراچی شہر سے باہر واقع رئیس گوٹھ بلوچستان کی سرحد کے قریب واقع ہے جہاں کارروائی کے لیے بلوچستان پولیس کی مدد بھی حاصل کی گئی تھی۔
کراچی سے بلوچستان میں داخل ہوتے ہی صنعتی شہر حب واقع ہے جو ضلع لسبیلہ کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے جہاں بلوچستان پولیس کے علاوہ ایکسائز پولیس، کسٹم پولیس، کوسٹ گارڈ کے اہلکار اس شاہراہ پر چیکنگ کرتے ہیں۔
اور لگتا ہے کہ بی ایل اے کے دہشت گرد بلوچستان سے بارود بنانے کا یہ سامان کراچی منتقل کر رہے تھے، یہ سب اہلکار کہاں تھے یا ان کی غفلت و لاپرواہی سے یہ منتقلی ہوئی اور صرف سی ٹی ڈی کے اہلکار متحرک تھے جنھوں نے یہ کارروائی کر کے ملک کے سب سے بڑے شہر کو دہشت گردی سے بچا لیا جو ان کی بڑی کارروائی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ کے پی میں اسلحہ اور منشیات بنائی جاتی ہیں اور بلوچستان میں بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ وہاں بی ایل اے کو اسلحہ اور فنڈز فراہم کرتی آ رہی ہے۔
بی ایل اے، مجید بریگیڈ و دیگر دہشت گردوں کو بھارت سے یہ فنڈز اور جدید اسلحہ سالوں سے فراہم ہو رہا ہے اور یہ دہشت گرد بلوچستان میں دہشت گردی کی زیادہ تر وارداتیں کامیابی سے کرتے آ رہے ہیں۔
اور جعفر ایکسپریس اور ریلوے ٹریک ان کا خاص نشانہ رہے ہیں اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کو بھارتی میڈیا سب سے پہلے نمایاں کرتا ہے اور بڑھ چڑھ کر جھوٹ پھیلاتا آ رہا ہے۔
پاکستان کے سیکیورٹی ادارے بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتیں ناکام، دہشت گردوں کو ہلاک اورکچھ کو گرفتار بھی کر چکے ہیں اور بلوچستان میں دہشت گردی کرانے میں بھارت اہم کردار ادا کر رہا ہے اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں سے پاک فوج مسلسل نبرد آزما ہے جس میں کافی جانی نقصان ہو رہا ہے۔
مگر یہ ملک دشمن باز نہیں آ رہے اور اب انھوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی تک رسائی حاصل کرکے بڑی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی تھی جو ناکام بنا دی گئی ہے۔
کے پی سے بلوچستان، پنجاب اور اندرون سندھ کا طویل فاصلہ ہے اور ان راستوں پر زیادہ تر منشیات اور اسلحہ مختلف طریقوں سے کراچی لاتے ہوئے پکڑا بھی جاتا ہے اور بلوچستان سے غیر ملکی مال بھی کراچی کامیابی سے اسمگل کر لیا جاتا ہے۔
جس کی روک تھام کے لیے کسٹم پولیس اور کوسٹ گارڈ کی روزانہ دن رات چیکنگ بھی جاری رہتی ہے جن کی ذمے داری اسمگل ہونے والی اشیا پر زیادہ ہے جس کی برآمدگی کی خبریں بھی میڈیا میں آتی ہیں، کراچی و اندرون سندھ سے کوئٹہ جا کر اپنے گھر اور ذاتی ضروریات کی اشیا لوگ لاتے ہیں تو ان سے گھریلو سامان برآمد کرکے ضبط کر لیا جاتا ہے جب کہ اسمگل شدہ مال کراچی میں عام مل جاتا ہے۔
کراچی میں اسلحہ بنتا ہے، نہ منشیات بنانے کی کوئی پیداوار یہاں ہوتی ہے جب کہ کراچی ناجائز اسلحے اور مختلف منشیات کا گڑھ بن چکا ہے۔ شہر میں اسٹریٹ کرائم میں کراچی کو ملک بھر میں بدنام کرنے والوں کی بھرمار ہے جو دن رات ناجائز اسلحہ سے لیس ہو کر کھلے عام وارداتیں کرتے ہیں جن کے چہرے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے پہچانے جا سکتے ہیں۔
مگر کراچی کے تھانوں کے پولیس اہلکاروں کو نظر نہیں آتے اور نہ انھیں چیک کیا جاتا ہے۔ یہ مسلح ڈکیت اب گھروں کے دروازوں پر جا کر بھی شہریوں کو لوٹ کر کامیابی سے فرار ہو جاتے ہیں۔ کراچی میں منشیات کی فروخت اور استعمال عام ہے اور ہر تھانے کے انچارج کو پتا ہے مگر وہ منشیات فروشوں کو برائے نام ہی پکڑتے ہیں۔
کیونکہ منشیات فروشی کے اڈے ہر تھانے کی کمائی کا ذریعہ ہیں۔ کراچی کی سڑکوں کے اطراف، اوور ہیڈ برجز اور فلائی اوورز کے نیچے نشئی کھلے عام نشہ کرتے ہیں اور پکڑے جانے کی فکر ہوتی ہے اور نہ منشیات فروشوں کو چھاپوں کا خوف رہا ہے۔ اب تو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی منشیات کا زہر پھیلا دیا گیا ہے جہاں طلبا ہی نہیں طالبات بھی نشے کی لت میں مبتلا ہو چکے ہیں اور تباہ ہو رہے ہیں۔
کراچی میں اسلحہ، منشیات اور بارود کے پی اور بلوچستان سے سیکڑوں پولیس چوکیوں اور سرکاری اداروں کے کرپٹ اہلکاروں کو رشوتیں دے کر پہنچایا جاتا ہے۔
کراچی پولیس شہر میں صرف کباڑیوں، اسٹے کے اڈوں اور زیر تعمیر گھروں کے مالکان سے ہفتے وار بھتے اور مٹھائی وصول کرنے میں مصروف رہتی ہے اور سمجھتی ہے کہ جب دور دراز کے پی اور بلوچستان سے اسلحہ اور منشیات پہنچا دی جاتی ہے اور اسے راستوں میں نہیں روکا جاتا تو وہ اپنی کمائی کیوں بند کریں۔
انھی وجوہات اور ہر جگہ رشوت وصولی نے کراچی کو ناجائز اسلحے اور منشیات کا گڑھ بنا کر رکھ دیا ہے مگر ادارے، حکومت اور تعلیمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور رشوت دے کر ہر ممنوعہ چیز کراچی پہنچ جاتی ہے جس کا کھلے عام استعمال عام ہو چکا ہے۔