روسی تیل خریدنے پر بھارت کے خلاف 500 فیصد ٹیرف، ٹرمپ نے بل کی حمایت کردی

0 minutes, 0 seconds Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوطرفہ حمایت یافتہ روسی پابندیوں کے بل کو گرین سگنل دے دیا، جس کے تحت ماسکو کے تجارتی شراکت داروں بشمول بھارت، چین اور برازیل کو روسی تیل کی خریداری پر (محصولات عائد) کی سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ انکشاف ریپبلکن سینیٹر اور دفاعی امور کے معروف رہنما لِنڈسی گراہم نے کیا۔

رپورٹ کے مطابق اگر یہ بل منظور ہو گیا تو گراہم-بلومن تھل پابندیوں کا قانون امریکی صدر کو اختیار دے گا کہ وہ ان ممالک پر 500 فیصد تک ٹیکس عائد کر سکیں جو جان بوجھ کر روسی تیل یا یورینیم خریدتے ہیں اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جنگی مشینوں کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔

اس سخت پابندیوں کا مقصد ماسکو کی معیشت کو بری طرح متاثر کرنا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ یوکرین جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے۔

ریپبلکن سینیٹر گراہم نے بتایا کہ انہوں نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی، جس میں صدر نے اس بل کی حمایت ظاہر کی جو کئی ماہ سے زیرِ غور ہے۔ اس بات کی تصدیق ایک وائٹ ہاؤس اہلکار نے بھی ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کی۔

گراہم نے بیان میں کہا کہ یہ وقت بالکل مناسب ہے، کیونکہ یوکرین امن کے لیے سمجھوتے کر رہا ہے اور پیوٹن صرف باتیں کررہے ہیں، اور بے گناہوں کو قتل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گراہم کا کہنا تھا کہ اس بل پر ووٹ ممکنہ طور پر اگلے ہفتے ہو سکتا ہے، حالانکہ یہ واضح نہیں کہ یہ کتنا ممکن ہے۔

یہ بل بنیادی طور پر گراہم اور ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومن تھل نے تیار کیا ہے، اور یہ انتظامیہ کو اجازت دیتا ہے کہ وہ روس کے تیل، گیس، یورینیم اور دیگر برآمدات خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیکس اور ثانوی پابندیاں عائد کر سکے۔ اس کا مقصد روس کی فوجی کارروائیوں کے لیے مالی ذرائع کو ختم کرنا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے پہلے کہا تھا کہ پابندیوں کے پیکج میں کچھ ترامیم اور صدر ٹرمپ کے لیے لچک ہونی چاہیے، لیکن یہ واضح نہیں کہ کسی تبدیلی کو حتمی شکل دی گئی یا نہیں۔

سینیٹ میں اس بل کے کئی کو-اسپانسرز موجود ہیں، جبکہ ہاؤس میں بھی اس کا ہم منصب بل ریپبلکن نمائندہ برائن فٹز پیٹرک نے تیار کیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ اس وقت یوکرین میں تقریباً چار سال سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے امن معاہدہ حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے، جس میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جارڈ کشنر بطور چیف مذاکرات کار شامل ہیں۔

Similar Posts