پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کے روز دی چرچ آف جیزس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس کے ایک اجتماع گاہ کی پارکنگ میں پیش آیا، جہاں درجنوں افراد ایک جنازے میں شرکت کے لیے موجود تھے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ حملہ آور تاحال گرفتار نہیں ہو سکا اور اس کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر مین ہنٹ جاری ہے، جس میں ایف بی آئی بھی معاونت فراہم کر رہی ہے۔
سالٹ لیک سٹی پولیس چیف برائن ریڈ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ اتفاقی نہیں تھا تاہم ابتدائی شواہد سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملہ کسی مخصوص مذہب کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں کیا گیا۔
چرچ کے ترجمان گلین ملز نے میڈیا کو بتایا کہ فائرنگ سے قبل چرچ کی پارکنگ میں کسی قسم کی تلخ کلامی یا جھگڑا ہوا تھا، جس کے بعد اچانک گولیاں چلائی گئیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں تقریباً 100 قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گاڑیاں پہنچ گئیں جبکہ ہیلی کاپٹرز بھی فضا میں گشت کرتے رہے۔
سالٹ لیک سٹی کی میئر ایرن مینڈن ہال نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “یہ کسی عبادت گاہ کے باہر اور زندگی کی یاد میں منعقدہ تقریب کے دوران نہیں ہونا چاہیے تھا۔” چرچ انتظامیہ نے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا میں حالیہ مہینوں کے دوران عبادت گاہوں پر حملوں اور فائرنگ کے واقعات نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔