پی ٹی آئی رہنماؤں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں الزامات کا جواب دیدیا

0 minutes, 0 seconds Read
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے سلمان اکرم راجا اور اسد قیصر کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ آج صرف ون پوائنٹ ایجنڈا دہشتگردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ دہشتگردی ایک ناسور ہے اور اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر عملدرآمد کرایا جائے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف خیبرپختونخوا کی حکومت اور پی ٹی آئی متفق ہیں ۔ یہ کہنا درست نہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت دہشتگردی کے خلاف تعاون نہیں کر رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردوں کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ کوئی جماعت۔ یہ کہنا کہ دہشتگردی میں پی ٹی آئی کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ایکشن کے لیے متعلقہ فورم پر رجوع کیا جانا چاہیے ۔ پی ٹی آئی ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں آگے آگے رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح اپنے عوام کی حفاظت ہے، اس کے باوجود اس نوعیت کی پریس کانفرنسز کرنا اور رِفٹ بڑھانا درست نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ پی ٹی آئی کے خلاف ایسی کوئی پریس کانفرنس نہیں ہوگی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ ان کے کسی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ۔ مذاکرات کا مینڈیٹ بانی پی ٹی آئی نے علامہ راجا ناصر عباس اور محمود اچکزئی کو دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کے نے بھی کل یہ کہا ہے کہ یہاں کے عوام کو بھی سنیں، عوام کی آواز کو سنا جائے۔ ادارے، اداروں کے سربراہ اور سیاستدان  باپ نہیں بلکہ عوام کے خادم ہیں۔ اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن اب ہونا چاہے۔ کل جو نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی بنائی گئی ہے اس پر مجھے بلایا گیا تھا۔ پی ٹی آئی نے اپنے کسی نمائندے کو کل نیشنل ڈائیلاگ میں نہیں بھیجا۔

پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا  نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ دہشتگردوں کے ہمدرد ہیں، بالکل غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دہشتگردوں کی حمایت نہیں کرتی بلکہ صرف معصوم لوگوں کے قتل کو غلط قرار دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا گیا کہ داعش کو اسلحہ کون دے رہا ہے، تاہم اس سوال کا واضح جواب نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگیں افواج اور عوام مل کر لڑتے ہیں ۔ پی ٹی آئی عوام اور اداروں کے مابین خلیج کو ختم کر سکتی ہے۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ڈرون حملے، شادیوں اور مساجد پر حملے ہمیں منظور نہیں، اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ آپریشن ہمیں قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بالآخر افغان حکومت کے ساتھ بات کرنا ہوگی ۔ ہم چاہتے ہیں کہ پالیسیوں میں تسلسل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم قومی پالیسی بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان  کہ دہشتگرد پیسے کے غلام ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں معیشت ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں روزگار کے مواقع پیدا نہیں کیے گئے۔ پی ٹی آئی پر غلط طور پر تہمت لگائی گئی ہے، ہم یکجہتی کا پیغام لے کر آئے ہیں، ہم بے گھری کے خلاف کھڑے ہیں اور چاہے دہشتگرد کی گولی ہو یا ریاست کی، ہم اپنے شہری کو اس سے بچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو باہر رکھ کر کوئی مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔

سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ ہم پہلے بھی بیٹھے تھے کہا کہ پوچھ کر بتائیں گے۔ اس کے باوجود کچھ نہیں ہوا تو ہم کسی کے ساتھ کیوں بیٹھیں ؟۔

اسد قیصر نے اس موقع پر  کہا کہ یہ پریس کانفرنس کسی کے خلاف نہیں ہے۔ ہمیں اس ملک میں مضبوط ادارے اور مضبوط فوج چاہیے، تاہم اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیے۔ ہم اس ملک میں آئین کی عملداری چاہتے ہیں۔

اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے جرگے میں متعدد سیاسی جماعتوں نے شرکت کی تھی، جس میں یہ بات کہی گئی تھی کہ فیصلوں پر صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں گزشتہ 17 سے 18 سال سے مسلسل آپریشنز ہو رہے ہیں، اس کے باوجود دہشتگردی ختم ہونے کے بجائے بڑھی ہے۔ دہشتگردی ہماری پالیسیوں کا تسلسل ہے، جہاد کے نام پر 10 سال جنگ لڑی گئی اور ان جنگوں کے ذریعے ہمارے کلچر کو ختم کیا گیا۔ کلاشنکوف کلچر افغان جنگ کی وجہ سے پھیلا۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور آپریشنز سے خیبرپختونخوا کے عوام متاثر ہو رہے ہیں ۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر آپریشنز کی پالیسی کامیاب نہیں ہوئی تو اسے بدلا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے 1.6 بلین روپے وفاق کے ذمے ہیں، این ایف سی کو ملا کر یہ رقم 567 بلین بنتی ہے جب کہ 2.5 بلین روپے آئل اینڈ گیس کی مد میں بھی خیبرپختونخوا کے وفاق کے ذمے ہیں۔ ہمیں این ایف سی کے مطابق حصہ نہیں دیا جا رہا ۔ ترقیاتی بجٹ بھی روک روک کر دیا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا کو پی ایس ڈی پی میں صرف 55 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔

اسد قیصر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور اسے کرش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ الٹا ہمارے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں پاکستان ہماری جان ہے ۔ ہم عوام اور اداروں کے مابین نفرتیں پیدا کرنے کے خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا ک ہمارے دو افراد کو شہید کیا گیا ہے ۔ خیبرپختونخوا میں کوئی سیاسی جماعت دہشتگردی سے محفوظ نہیں رہی۔ ہم کسی ملک کے اندر مداخلت نہیں چاہتے اور نہ ہی کسی کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنی چاہیے۔

Similar Posts