واقعہ بدھ کے روز اس وقت پیش آیا جب شہر میں امیگریشن کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران ایک گاڑی کو روکا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ دفاع میں کی گئی، تاہم منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے اس کارروائی کو غیر ضروری اور لاپرواہی قرار دیتے ہوئے امیگریشن حکام کو شہر چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
پولیس کے مطابق خاتون کو شہر کے جنوبی علاقے میں ایک رہائشی محلے میں سر میں گولی ماری گئی۔ واقعے کے وقت خاتون کا ایک قریبی رشتہ دار بھی موقع پر موجود تھا۔
متوفیہ کی شناخت رینی نِکول میکلن گُڈ کے نام سے ہوئی ہے، جو ایک بچے کی ماں تھیں اور سوشل میڈیا پر خود کو شاعرہ اور مصنفہ کے طور پر متعارف کراتی تھیں۔
عینی شاہدین کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک امیگریشن اہلکار گاڑی کے قریب جاتا ہے اور اسی دوران ایک اور اہلکار فائرنگ کر دیتا ہے۔
فائرنگ کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
When you slow the Minneapolis video down and zoom in, you can clearly see that the ICE Agent was NOT in front of the vehicle when he shoots.
He was not “rammed.”
Both his feet are off to the side.
He drew his gun as she backed up and shot her as she drove past him.
It’s MURDER pic.twitter.com/v6bWPjNpBv
— JΛKΣ (@USMCLiberal) January 7, 2026
شام کے وقت مظاہرین نے شمعیں روشن کر کے دعائیہ اجتماع کیا اور امیگریشن کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا۔
صورتحال کے پیش نظر منیسوٹا کے گورنر ٹم والٹز نے نیشنل گارڈ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کا ذمہ دار امیگریشن کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے والے مظاہرین کو قرار دیا ہے۔