میئر کراچی نے ننھے ابراہیم کے دادا سے تو معذرت کر لی لیکن چند دن بعد مین ہول میں گرنے والی بچی کا نوٹس نہیں لیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فوری طور پر مختلف بلدیاتی اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر گٹر کے ڈھکن لگانے کو کہا جاتا۔ ہمارے ملک میں ایک عجیب روایت ہے کہ جو خبر ٹی وی پر یا اخبار میں آ جاتی ہے اس پر نوٹس لے لیا جاتا ہے اور معذرت کر لی جاتی ہے۔
بات تو جب تھی جب میئر کراچی معذرت کے ساتھ ہی کھلے مین ہولز پر ڈھکن لگانے کا حکم دیتے۔ ننھے ابراہیم کی ہلاکت پر ایک سوال اور اٹھتا ہے کہ جس ڈپارٹمینٹل اسٹور کے سامنے نیپا چورنگی سے قریب جو مین ہول تھا کیا ڈپارٹمینٹل اسٹور اس پر ڈھکن نہیں لگا سکتا تھا؟ دوسرے میں والدین سے یہ بھی کہوں گی کہ اول تو شاپنگ پر چھوٹے بچوں کو ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں، بصورت دیگر اگر آپ بچوں کو ساتھ لے جانے پر مجبور ہیں تو ان کا خیال رکھیں، بچے ادھر ادھر نہ ہو جائیں۔ ابراہیم کو مین ہول سے نکالنے والے نوجوان تنویر کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اس نے لاش کو تلاش کیا، ورنہ پولیس والوں نے تو اسے تھپڑ مارے اور یہ کارنامہ وہ اپنے کھاتے میں ڈالنا چاہتے تھے، لیکن ایک ٹی وی چینل رپورٹر وہاں موجود تھا، اس نے تنویر کا انٹرویو اپنے چینل پر نشر کر دیا۔
اس بدنصیب شہرکا ایک اور المیہ ہے وہ ہے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے ٹریفک کے حادثات، جن میں سر فہرست بائیک سواروں کے حادثات تقریباً روز ہی اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ کسی ٹرالر نے، ٹینکر نے یا ٹرک نے کسی بائیک سوار کو کچل دیا، ایسے موقعوں پر راہ گیروں میں اشتعال پھیلتا ہے اور وہ حادثے کے ذمے دار ٹرک، ٹرالر یا ٹینکر کو نذرآتش کر دیتے ہیں، یہ شہر اب مقتل بن گیا ہے۔ بغیر سوچے سمجھے فلائی اوور بنانا اور چورنگیوں پر سگنل نہ لگانا، ان حادثوں کی وجہ ہے۔ آپ دیکھیے جہاں بھی یہ فلائی اوور بنے ہیں، وہاں کی چورنگیاں سگنلوں کے بغیر ہیں، یہاں پیدل چلنے والوں کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا ہے۔
لوگ جان جوکھوں میں ڈال کر سڑک عبورکرتے ہیں، ایک طویل عرصے سے زیبرا کراسنگ غائب ہیں، راہ گیر کریں تو کیا کریں؟ سڑک پر چلنے والا ٹریفک اندھا دھند چلتا ہے، سڑک عبورکرنے والے افراد دیر تک ٹریفک کا فلو کم ہونے کا انتظار کرتے ہیں، ہم میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے درخواست کرتے ہیں کہ ایک تو فلائی اوور کے نیچے بنی ہوئی چورنگیوں پر سگنل نصب کروائیں، دوسرے یہ کہ شہر کی سڑکوں پر زیبرا کراسنگ بنوائی جائیں۔ اس بدنصیب شہر میں پہلے سب کچھ تھا ہر سڑک پر دونوں طرف زیبرا کراسنگ ہوا کرتی تھیں، لیکن اقتدار کے کھیل میں سب کچھ تباہ ہو گیا، میئرکراچی اور دیگر ذمے دار لوگ اور اقتدار کے جھولے میں جھولنے والے لوگ اپنی اپنی گاڑیوں میں گزرتے ہیں۔ اس لیے انھیں پیدل چلنے والوں کے مصائب کا کوئی ادراک نہیں۔
زیادہ تر حادثے اس شہر میں بائیک سواروں کے ہوتے ہیں، جن میں کسی حد تک قصور خود بائیک سواروں کا بھی ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ بہت تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دوم یہ کہ انھیں چاہیے کہ ٹرالر، ٹرک یا ٹینکر کے آگے نہ چلیں بلکہ ان سے دور رہیں، کیونکہ یہاں ڈرائیور زیادہ تر نشے کے عادی ہوتے ہیں، اسی طرح اندرون ملک چلنے والی بڑی بسوں کے ڈرائیور بھی رات کو نشہ کرکے گاڑی چلاتے ہیں اور اپنے سامنے جانے والے راہ گیر یا بائیک سواروں کو روند ڈالتے ہیں، کچھ حادثات کی خبریں اخبارات میں آ جاتی ہیں لیکن بیش تر حادثات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ صرف جن پرگزرتی ہے جن گھروں کے چراغ گل ہوتے ہیں وہاں ماتم ہوتا ہے۔گزشتہ سال نارتھ کراچی کے کھلے مین ہول میں ایک بائیک سوار اپنی بیوی اور بچے سمیت گر کر جاں بحق ہو گیا تھا، بیوی اور بچہ بھی نہ بچا۔ آخر کب تک یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا؟ یہ حادثے نہیں ہیں، معصوم لوگوں کا قتل عام ہے جو روزانہ کی بنیادوں پر ہو رہا ہے۔
حادثہ ہوتا ہے لوگ کچھ دیر کے لیے رکتے ہیں اور پھر اپنی منزل کی طرف چل پڑتے ہیں، گزشتہ سال میرے گھر کے قریب رہنے والے ایک نوجوان کو ایک کار چلاتی خاتون نے اس بری طرح ٹکر ماری اور نوجوان کا زندہ بچ جانا ایک معجزہ تھا، گاڑی کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا لیکن وہ خاتون کسی بااثر گھرانے کی تھیں کہ چند گھنٹے بعد ہی ان کے ورثا انھیں چھڑا کر لے گئے۔ اب یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ پولیس والوں سے معاملات کس نہج پر طے ہوئے ۔ اس نوجوان کی ٹانگ میں آج بھی راڈ پڑی ہوئی ہے، وہ کافی دن اسپتال میں رہا اور طویل عرصہ وہ گھر میں قید رہا۔ یہ واقعہ نہ ٹی وی پر نشر ہوا نہ کسی اخبار کی زینت بنا۔
کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر تھا آج مختلف عذابوں کا شکار ہے۔ ایک طرف خستہ حال سڑکیں ہیں، دوسری طرف ٹریفک کا عذاب، پہلے میٹرو پولیٹن شہر میں چنگ چی رکشے اندرون سندھ سے درآمد کر لیے، بڑی بسیں اور ویگنیں اس یلغار کے آگے ٹھہر نہ سکیں، جب یہاں کے لوگ ان چنگ چی رکشوں کے عادی ہو گئے کہ غریب لوگوں اورکسی حد تک سفید پوش خواتین و حضرات کی سستی سواری بن گئی تو پچھلے دنوں بہ یک جنبش قلم اسے ختم کر دیا گیا اور لوگوں کو مشکل میں ڈال دیا گیا، صرف یہی نہیں بلکہ شہر کی 9 سڑکوں پر رکشہ بند کر دیا گیا، جیسے یہ شہر اور اس کی سڑکیں صرف ذاتی گاڑیوں کے لیے ہے۔ رکشہ سفید پوش شہریوں کی واحد سواری ہے۔ شہر کی 9 بڑی سڑکوں پر رکشوں کا داخلہ بند کرنا اس شہر کے عام شہریوں کے لیے ایک غلط اعلان ہے۔
کراچی کے مسائل اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ اب یہ صرف شہری سہولیات کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ انتظامی دیوالیہ پن کی علامت بن چکا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، ابلتے ہوئے گٹر جگہ جگہ کچرے کا ڈھیر اس بات کی علامت ہے کہ اس شہر سے ریونیو تو سب لیتے ہیں لیکن اس شہر کی تعمیر و ترقی کا کسی کو خیال نہیں۔ سندھ میں برسوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن پیپلز پارٹی نے کبھی اس شہر کو اس کے شایان شان بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی کیوں کہ پی پی کو اس شہر سے زیادہ ووٹ نہیں ملتے۔
اس شہر کے لوگ چاہتے ہیں کہ جو پارٹی اس شہر کے مسائل خصوصاً ٹرانسپورٹ، صفائی اور سڑکوں کی مرمت کی طرف دھیان دے گی وہ اسی کو ووٹ دیں گے۔ کراچی سے سوتیلی ماں والا سلوک ختم ہونا چاہیے۔ مجھے کہنے دیجیے کہ شاید اگر اس شہر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوتی تو اس کے دن بھی پھر جاتے۔ لیکن (ن) لیگ نے کبھی اس طرف توجہ نہیں دی، وفاقی حکومتوں نے پنجاب (ن) لیگ کو دے دیا ہے اور سندھ پیپلز پارٹی کو، جہاں رشوت عروج پر ہے۔ مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکریٹری جنرل سردار عبدالرحیم نے نہایت واشگاف الفاظ میں سندھ حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ بدعنوانی کے خاتمے کے دعوے محض عوام کو بے وقوف بنانے کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ کے تمام محکموں میں بدعنوانی عروج پر ہے وہاں پر ایسے لوگوں کو بٹھا دیا گیا ہے جیسے بلے کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھا دیا گیا ہو۔ صحت عامہ اور تعلیم سمیت ہر شعبے میں رشوت کا راج ہے۔ نوکریاں پیسے سے خریدی اور بیچی جاتی ہیں، تعلیمی اداروں میں ڈگریاں پیسے دے کر حاصل کی جاتی ہیں، بغیر رشوت جائز کام بھی نہیں ہوتا، اسپتالوں میں ڈاکٹر دستیاب نہیں ہیں۔
سرکاری اسپتالوں میں بغیر سفارش اور رشوت کے مریضوں کا علاج نہیں ہوتا یا تو کسی کی تگڑی سفارش ہو یا پھر اس اسپتال میں کام کرنے والے کسی ڈاکٹر سے اچھی صاحب سلامت ہو، ورنہ ایمبولینس میں آنے والے زخموں سے چور چور مریضوں کو واپس بھیج دیا جاتا ہے۔