ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ رک نہ سکا، جہاں 28 دسمبر سے جاری مظاہروں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایران میں معاشی بحران، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ کے خلاف ملک گیر احتجاج بارہویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 28 دسمبر سے جاری ان مظاہروں کے دوران اب تک سکیورٹی اہلکاروں سمیت 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
تہران، تبریز، اصفہان، مشهد اور کرمان سمیت تمام 31 صوبوں میں مظاہرے پھیل چکے ہیں، اور بازاروں میں تاجر ہڑتال پر ہیں۔ جہاں دکانداروں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد روزانہ کی بنیاد پر مختلف شہروں اور علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کر رہی ہے۔
تازہ احتجاج کے دوران مظاہرین نے کئی اہم شہروں میں ٹائر جلا کر سڑکیں بند کر دیں، جس کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بعض مقامات پر احتجاج پُرتشدد شکل اختیار کر گیا، جہاں ہتھیاروں سے لیس شرپسندوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جبکہ براہ راست فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
صورتحال کو قابو میں رکھنے اور احتجاج کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ملک بھر میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب احتجاج کے دوران ایران بھر میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے انٹرنیٹ کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انٹرنیٹ معطلی کی اصل وجہ کیا ہے، تاہم ماضی میں بھی ایرانی حکام مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ سروس بند کرتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران میں گزشتہ 12 روز سے عوام مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، جس کے دوران درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
ادھر امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ اگر احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا کی جانب سے ایران کو بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔