جنوبی امریکی ملک ایکواڈور کے ساحل پر کٹے ہوئے انسانی سر لٹکتے ملنے سے دہشت پھیل گئی۔ جہاں سمندر کنارے رسیوں سے لٹکے ہوئے پانچ انسانی سر برآمد ہوئے ہیں۔
خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایکواڈور کے جنوب مغربی صوبے منابی کے ساحلی قصبے پورٹو لوپیز میں ساحل سمندر پر پانچ انسانی سر رسیوں کے ذریعے لکڑی کے کھمبوں سے لٹکے ہوئے پائے گئے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کے روز سامنے آیا، جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایکواڈور کے مقامی میڈیا کی جانب سے شائع کی گئی تصاویر میں خون آلود مناظر دکھائے گئے۔ جبکہ انسانی سروں کے قریب ایک انتباہی پیغام بھی نصب تھا، جو مبینہ طور پر ماہی گیروں سے بھتہ وصول کرنے والوں کے لیے لکھا گیا تھا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ مختلف جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان جاری تنازع سے جڑا ہوا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورک سرگرم ہیں، جن کے بین الاقوامی کارٹلز سے روابط ہیں۔ یہ گروہ ماہی گیروں اور ان کی کشتیوں کو غیر قانونی سرگرمیوں، خصوصاً منشیات کی نقل و حمل کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق منشیات اسمگلنگ کے راستوں پر قبضے اور علاقے کے کنٹرول کی جنگ کے باعث صوبہ منابی میں مسلسل پرتشدد واقعات پیش آ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں پورٹو لوپیز میں سیکیورٹی اور نگرانی کے آپریشنز میں اضافہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایکواڈور کے 24 میں سے نو صوبوں میں پہلے ہی ایمرجنسی نافذ ہے، جن میں صوبہ منابی بھی شامل ہے۔ ایمرجنسی کے تحت تشدد پر قابو پانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو اضافی اختیارات دیے گئے ہیں اور بعض شہری آزادیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
پورٹو لوپیز میں پولیس کی نگرانی اس وقت مزید سخت کر دی گئی تھی جب دو ہفتے قبل ایک حملے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے تین روز بعد اسی صوبے کے شہر مانتا میں ایک اور مسلح حملے میں بھی چھ افراد جان سے گئے تھے۔
حکام کے مطابق ایکواڈور گزشتہ چار سال سے شدید تشدد کی لپیٹ میں ہے، جس کی بڑی وجہ ملک کا منشیات کی ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کا مرکز بن جانا ہے۔ منشیات زیادہ تر کولمبیا اور پیرو کی سرحدوں کے ذریعے ملک میں داخل ہوتی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 ایکواڈور کی تاریخ کا سب سے خونریز سال ثابت ہوا، جہاں 9 ہزار سے زائد افراد قتل ہوئے، جو 2023 کے ریکارڈ 8 ہزار 248 ہلاکتوں سے بھی زیادہ ہے۔