بنگلا دیش نے بھارتی شہریوں کے لیے ویزوں کا اجرا غیر معینہ مدت تک بند کرنے کا اعلان کردیا ہے، جبکہ اس فیصلے کا دائرہ بھارت کے مختلف شہروں میں قائم بنگلا دیشی ڈپٹی ہائی کمیشنز تک بڑھا دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اور ڈھاکہ ٹربیون کے مطابق کولکتہ کے بعد ممبئی اور چنئی میں قائم بنگلا دیشی ڈپٹی ہائی کمیشنز میں بھی ویزا خدمات معطل کر دی گئی ہیں، جہاں سیاحتی ویزوں سمیت تمام اقسام کے ویزوں کا اجرا روک دیا گیا ہے۔
بنگلا دیش کے مشیرِ خارجہ توحید حسین نے ویزا پالیسی میں اس اچانک تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
انہوں نے ویزوں کی بندش کو کسی سیاسی فیصلے سے جوڑنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ حالیہ واقعات کے تناظر میں سفارتی تنصیبات اور عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
مشیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں بنگلا دیشی سفارتی اور قونصلر دفاتر کو حالیہ دنوں میں انتہا پسند عناصر کی جانب سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سیکیورٹی صورتحال کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 20 دسمبر کو نئی دہلی میں قائم بنگلا دیش ویزا سینٹر میں توڑ پھوڑ کی گئی، جبکہ 22 دسمبر کو سلی گوڑی میں بھی ایک اور حملے کا واقعہ پیش آیا۔
ڈھاکہ ٹربیون کے مطابق بنگلا دیش میں متوقع عام انتخابات کے پیش نظر بھارتی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزوں کا اجرا پہلے ہی محدود کیا جا چکا تھا، تاہم حالیہ سیکیورٹی خدشات کے بعد ویزا خدمات مکمل طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بنگلا دیشی حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال میں بہتری اور خطرات کے خاتمے کے بعد ویزا پالیسی پر دوبارہ غور کیا جائے گا، تاہم تاحال ویزا کی بحالی سے متعلق کوئی حتمی ٹائم فریم جاری نہیں کیا گیا۔