ڈنمارک کے وزیر دفاع نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر حملے کی صورت میں گولی پہلے ماریں گے سوال بعد میں پوچھیں گے۔
نیو یارک پوسٹ کے مطابق ڈنمارک کے وزیر دفاع نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرین لینڈ پر کسی بھی قسم کا حملہ ہوا تو ڈینش فوج احکامات کا انتظار کیے بغیر فوری فائر کھول دے گی۔ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے گرین لینڈ کے معاملے پر سخت بیانات اور ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ ڈنمارک کے اندر ایک خود مختار علاقہ ہے اور اس کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وزیر دفاع نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حملہ ہوا تو جواب فوری اور سخت ہوگا۔
ڈنمارک کی وزرت دفاع کے مطابق فوج کو سرد جنگ کے دور میں بنائے گئے ایک پرانے حکم کے تحت یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیر ملکی طاقت کی جانب سے ڈینش علاقے کو لاحق خطرے کی صورت میں فوراً لڑائی شروع کرے۔ 1952 کے اس حکم میں کہا گیا ہے کہ اگر دشمن حملہ کرے تو فوجی دستے قیادت کے احکامات یا باضابطہ اعلانِ جنگ کا انتظار کیے بغیر کارروائی کریں گے۔
یہ حکم دراصل 1940 میں نازی جرمنی کے ڈنمارک پر حملے کے بعد تیار کیا گیا تھا، جب حملے کے دوران ملک کا مواصلاتی نظام متاثر ہوا اور فوجی یونٹس کو واضح احکامات نہیں مل سکے تھے۔
ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے بھی امریکا کی جانب سے گرین لینڈ کو امریکی علاقہ بنانے کی کوششوں پر شدید ردعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے کسی دوسرے نیٹو ملک پر فوجی حملہ کیا تو نیٹو دفاعی اتحاد کی بنیاد ہی ختم ہو جائے گی۔
دوسری جانب جوائنٹ آرکٹک کمانڈ، جو گرین لینڈ میں ڈنمارک کی فوجی اتھارٹی ہے، اس بات کا تعین کرے گی کہ کسی واقعے کو حملہ تصور کیا جائے یا نہیں۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا گرین لینڈ پر قبضے کے لیے فوجی کارروائی بھی کر سکتا ہے۔ اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ڈنمارک کے حکام سے ملاقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ مبینہ طور پر گرین لینڈ کی خریداری سے متعلق کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
اس سے قبل سات یورپی ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ گرین لینڈ کے مستقبل سے متعلق فیصلہ کرنے کا حق صرف گرین لینڈ اور ڈنمارک کو حاصل ہے۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے یورپی رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ اگر یورپ نے گرین لینڈ کی سکیورٹی کو سنجیدگی سے نہ لیا تو امریکا خود کارروائی کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ عالمی میزائل دفاعی نظام کے لیے نہایت اہم ہے اور بعض مخالف طاقتیں بھی اس خطے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔