سانحہ جعفر ایکسپریس واقعے میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب کلیئرنس آپریشن میں جہنم واصل دہشت گردوں کی تصاویر منظر عام پر آگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں سانحہ جعفر ایکسپریس میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب کلیئرنس آپریشن میں جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کی تصاویرمنظر عام پر آگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تصاویرمیں واضح ہے کہ دہشت گرد ٹرین کے ارد گرد مارے گئے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان میں ملک دشمنوں کی جانب سے بدامنی پھیلانے کے سلسلے میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور جانے والی ٹرین (جعفر ایکسپریس) پر حملہ کر کے مسافروں کو یرغمال بنالیا گیا تھا تاہم سیکیورٹی فورسز نے بزدل دشمن سے تمام یرغمالیوں کو بازیاب کرا لیا۔
[سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن][1] سے قبل جعفرایکسپریس کے درجنوں مسافروں کو دہشت گردوں نے یرغمال بنائے رکھا۔ دہشت گرد یرغمالیوں کو تین الگ مقامات پر لے گئے تھے، خودکش بمبار بھی ساتھ بٹھا دیے تھے۔
بعدازاں، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے نجی ٹی وی سے جعفر ایکسپریس پر حملے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 11 مارچ کو ایک بجے بولان کے قریب ریلوے ٹریک کو پہلے دھماکے سے اڑایا گیا، دہشت گردوں نے بعد میں جعفر ایکسپریس کو روک کر مسافروں کو یرغمال بنایا، دہشت گرد افغانستان میں اپنے سہولتکاروں سے رابطے میں تھے۔
ٹانک؛ چیک پوسٹ پر حملہ ناکام، فورسز نے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بھرپور طریقے سے آپریشن شروع کیا اور یرغمالیوں کو بازیاب کرایا، وہاں پر موجود تمام 33 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مرحلہ وار یرغمالیوں کو رہا کرایا گیا، آپریشن سے قبل دہشت گرد 21 جانیں لے چکے تھے، آپریشن کے دوران 4 ایف سی اہلکار شہید ہوئے۔