ڈی ایچ اے کریک کلب میں جاری ٹورنامنٹ کے دوسرے راؤنڈ میں عالمی انڈر 23 چیمپئن اور عالمی نمبر 38 نور زمان کے خلاف میچ کے دوران مصر کے عالمی نمبر15 فیرس ڈیسوکی نے ریفری کے فیصلے پر اعتراض کیا۔
کھلاڑی نے ریفری کی قومیت بھی پوچھی، جس کے بعد تناؤ کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔
تیسرے گیم میں نور زماں کو 3-7 سے سبقت ملنے پر مصری کھلاڑی نے فیصلے پر سخت غصے کا اظہارکیا۔ بار بار تنبیہ کے باوجود وہ کورٹ سے باہر آکر بحث کرتے اور سخت طیش میں چیخ و پکار کرتے رہے جس کے بعد ریفری نے نور زمان کو 0-3 سے فاتح قرار دے دیا۔
مصری کھلاڑی نے کورٹ سے نکلتے ہوئے نور زبان سے ہاتھ ضرور ملایا۔
دریں اثنا عالمی انڈر 23 چیمپئن نور زمان کا کہنا تھا کہ ریفری سے غلطی ہو سکتی ہے لیکن کھلاڑی کو اپنا رویہ بہتر رکھنا چاہیے،میچ کے نامناسب انداز میں اختتام پر افسوس ہوا۔