پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کراچی سے جاری اعلامیہ کے مطابق سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کا سولرنیٹ میٹرنگ پالیسی اور نیپرا کے دیگر امور سے متعلق اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں ہوا جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرپرسن سینیٹر رانا محمود الحسن نے کی اور کمیٹی کے دیگر اراکین بھی شریک تھے۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے نیپرا حکام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ صارفین سے 2.2 کھرب روپے اس بجلی کے لے رہے ہیں جو بنی نہیں اور استعمال ہوئی ہی نہیں، یہ وصولی صرف اس لیے کہ سردی میں بجلی کی کھپت کم ہوجاتی ہے۔
سینیٹر عبدالقادر نے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اسمبلی میں اعلانات کردیے کہ بجلی سستی ہوگئی، ایس آئی ایف سی نے آئی پی پیز کا آڈٹ کرلیا، ناکارہ پلانٹ بند کردیے لیکن اس سب کے باوجود نتیجہ کچھ نہیں، 25 کروڑ عوام کے لیے بجلی کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیپرا کے پاس ایک ہزار میگاواٹ کے نئے کنکشنز کی درخواستیں پڑی ہیں، معلوم نہیں کہ ان پر کوئی پیش رفت ہورہی ہے یا نہیں، توانائی کی قیمت کی وجہ سے ہماری برآمدات نہیں بڑھ رہیں، 2200 ارب کے آپ کیپسٹی چارجز لے رہے ہیں، اس کا کیا کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز نے پورا ملک یرغمال بنا رکھا ہے، ان کا فرانزک آڈٹ نہیں ہوتا کہ معلوم ہوسکے انہوں نے کتنا کمایا۔
چیئرپرسن کمیٹی رانا محمود الحسن نے کہا کہ کمیٹی متفقہ طور پر یہ سفارش کرتی ہے کہ آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے، کتنی نئی بجلی سسٹم میں آرہی ہے؟ کتنے نئے پاور پلانٹ لگ رہے ہیں یہ بھی بتائیں۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اس متعلق مزید بتایا کہ آڈٹ سے معلوم ہوگا کہ آئی پی پیز نے کتنی بجلی بنائی؟ کتنی بجلی فراہم کی اور حکومت سے کیسپٹی چارجز کیا لیے۔
سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ آڈٹ میں یہ بھی شامل ہونا چاہیے کہ کس فیزیبلٹی پر پلانٹس لگے ہیں؟ اراضی کی مالیت کیا ہے، منصوبے کی لاگت کتنی ہے، ایندھن کتنا لیتے ہیں اور پلانٹس پر لگنے والی مشینری کا آؤٹ پٹ کیا ہے؟ کیا ادارے مشینری کی سالانہ چیکنگ کررہے ہیں۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے استفسار کیا کہ ایک یونٹ میں کیا کیا چارجز لیے جارہے ہیں اور نیپرا کا کیا کردار ہے، جس پر نیپرا عہدیدار نے جواب دیا کہ ٹیرف کے دو حصے ہیں، ایک کیپسٹی چارجز اور دوسرا انرجی چارجز، کیپسٹی چارجز میں ہم ساری لاگت لگاتے ہیں، وہ بجلی کے استعمال سے مشروط نہیں، کیپسٹی چارجز کم نہیں ہوسکتے، 4 کروڑ صارفین میں سے تھری فیز والے صرف 20 لاکھ ہیں اور کیپسٹی پیمنٹ کا حل ہے کہ سیلز بڑھائیں۔
سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ کیپسٹی کا پیسہ جا رہا ہے لیکن لوگوں کو بجلی نہیں مل رہی، آپ انڈسٹری کے لیے پیکیج لے آئیں، سردی میں 10 روپے کی بجلی بیچیں، سیلز بڑھے گی، نیپرا عہدیدار نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈسکوز کی کامن شیئر ہولڈنگ نیپرا کے پاس نہیں آتی، نیپرا صرف کارکردگی کو ریگولیٹ کرتا ہے لیکن گورننس اور شیئرہولڈنگ ہمارے اختیار میں نہیں، سیلز کا کام ڈسٹری بیوشن کمپنیز کا ہے۔
پورے ملک میں سب سے زیادہ حکم امتناعی کے-الیکٹرک کیلئے ہیں، زبیرموتی والا
بجلی کے بل بڑھنے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کراچی کے معروف تاجر زبیر موتی والا نے کہا کہ فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج اور گردشی قرضے کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے یونٹ کی قیمت جتنی بھی کم ہوجائے بل اتنا ہی رہتا ہے، نیپرا نے کے-الیکٹرک کے خلاف کئی آرڈر پاس کیے لیکن عدالت نے سارے احکامات پر حکمِ امتناعی دے دیا، پورے ملک میں سب سے زیادہ حکمِ امتناعی کسی کمپنی کے پاس ہیں تو وہ کے الیکٹرک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح انڈسٹری نہیں چل سکتی، ہم متبادل نظام لگا لیں گے، آپ کے پاس 42 ہزار میگاواٹ کا سسٹم ہے جس میں سے 28 ہزار میگاواٹ فعال ہے، 14 ہزار میگاواٹ غیرفعال بجلی سسٹم کے بھی پیسے لیے جارہے ہیں۔
زبیر موتی والا نے نیپرا حکام سے کہا کہ سولر صارفین کی تعداد بڑھنے کے بعد سے آپ بجلی استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں، تو پیک آور کا ٹیرف کس بات پر لے رہے ہیں، اب تو آپ کی پالیسی ہے کہ بجلی زیادہ استعمال کی جائے تاکہ آپ کی سیلز بڑھے۔
ان کا کہنا تھا کہ جولائی سے ستمبر تک کے دوران 79 ارب روپے کا گردشی قرضہ بڑھ چکا ہے، یہ کہتے ہیں کہ سیلز کم ہوگئی ہیں تو قیمت بڑھا دیں، سارے بڑے ایکسپورٹرز نے اپنا بجلی کا انتظام کرلیا ہے، سب نے اپنے اپنے ونڈ انرجی سسٹم لگا دیے ہیں، ایک وقت آئے گا ان سے کوئی بجلی نہیں خریدے گا۔
سندھ اسمبلی کے ایم پی اے شارق جمال نے کہا کہ بچلی چوری کرنے والے اور بل نا بھرنے والے کی سزا بل بھرنے والے صارفین کو دی جارہی ہے، بل بھرنے والوں کا کیا قصور ہے، بہت زیادہ نقصان پر 12 گھنٹے کی اعلانیہ لوڈشیڈنگ طے کی گئی ہے لیکن 18 سے 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سردی میں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہے، اپریل اور مئی میں کیا ہوگا، کے-الیکٹرک کا سی ای او ٹی وی چینل پر بیٹھ کر سرعام کہتا ہے کہ میں 5 کروڑ جرمانہ بھردوں گا لیکن بجلی نہیں دوں گا۔
رکن سندھ اسمبلی نے کمیٹی سے گزارش کی کہ پاور کمپنیز کا جرمانہ کروڑوں سے اربوں پر لے کر جائیں، نیپرا کو چاہیے کہ لوڈشیڈنگ والے علاقوں میں عوامی عدالت لگائیں، نیپرا کو اختیار حاصل ہے، کے ای کو بھی طلب کریں اور عوام کو بھی بلائیں۔
ایم پی اے شارق نے مزید کہا کہ آج ہی حکومت سندھ سے تین کروڑ لے کر ایک سرکاری اسپتال کو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دلوایا ہے، اندرون سندھ ایک پی ایم ٹی خراب ہوجائے تو 6،6 ماہ صحیح نہیں ہوتا۔
زبیر موتی والا نے بتایا کہ نیپرا نے کراچی میں لوڈشیڈنگ پر سروے کیا، دو سال ہوگئے، اس کی رپورٹ جاری نہیں کی گئی، جس پر چیئرپرسن کمیٹی رانا محمود الحسن نے ہدایت دی کہ یہ رپورٹ دو دن میں کمیٹی کو ارسال کریں اور ہم صوبائی اسمبلی کے موجودہ اراکین سے بھی شیئر کریں گے اور کراچی چیمبر آف کامرس کو بھی بھیجیں گے۔
زبیر موتی والا نے بتایا کہ کے -الیکٹرک کے پاس صارفین سے لیا گیا 46 ارب کا ڈپازٹ ہے۔
سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ سارے ایم پی ایز چیئرمین کمیٹی کو خط لکھیں، کمیٹی چیئرپرسن سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ یہ سارے خطوط چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو بھیج دیں کہ آپ کے-الیکٹرک کو حکم امتناع دیتے ہیں، ان کے خلاف عوام کا یہ ردعمل ہے جو منتخب نمائندوں کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔