کراچی، پولیس نے باغ جناح خالی کرا لیا، سپر ہائی بند، سہیل آفریدی بھی ٹریفک جام میں پھنس گئے

شہر قائد ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں پی ٹی آئی کے متوقع جلسے سے قبل حالات اچانک کشیدہ ہو گئے۔ باغِ جناح میں پولیس کی بھاری نفری داخل ہو گئی، کارکنان کو زبردستی نکال دیا گیا اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، دوسری جانب سپر ہائی وے کی اچانک بندش نے شہر کو مفلوج کر دیا، حتیٰ کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی بھی ٹریفک جام میں پھنس گئے۔

جبکہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی حیدرآباد سے کراچی کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ ترجمان تحریک انصاف کے مطابق سہیل آفریدی رات کے کسی بھی وقت باغ جناح گراؤنڈ پہنچیں گے جہاں وہ جلسے کے انتظامات کا جائزہ لیں گے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سپر ہائی وے بند ہونے کے باعث سہیل آفریدی بھی ٹریفک جام میں پھنس گئے ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے متوقع جلسے سے قبل کراچی میں سیکیورٹی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔

پولیس کی بھاری نفری باغ جناح میں داخل ہو گئی اور تحریک انصاف کے کارکنان کو جلسہ گاہ سے خالی کرا لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے جبکہ پولیس باغ جناح میں موجود ہے۔

پولیس نے نمائش چورنگی سے مزار قائد جانے والا راستہ بھی بند کر دیا ہے۔ اسی طرح سپر ہائی وے پر نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے قریب دونوں ٹریک ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث کراچی اور حیدرآباد کے درمیان آنے جانے والے راستوں پر ٹریفک معطل ہو گئی۔

سپر ہائی وے اچانک بند ہونے سے دونوں اطراف شدید ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی بھی حیدرآباد سے کراچی آتے ہوئے اسی ٹریفک جام میں موجود ہیں۔

پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجہ اظہر نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے باغ جناح پر دھاوا بول کر کارکنان کو منتشر کیا، کئی کارکنان کو حراست میں لیا گیا اور جلسے کا سامان بھی پھینک دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کچھ ہی دیر میں جلسہ گاہ پہنچیں گے اور آج ہر صورت جلسہ کیا جائے گا۔ راجہ اظہر نے سندھ حکومت کی پالیسیوں کو دوغلا قرار دیتے ہوئے سخت مذمت بھی کی۔

 

Similar Posts