پاکستانی میوزک انڈسٹری میں لیجنڈز گلوکاروں کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے، حمیرہ اصغر

معروف پاکستانی پلے بیک گلوکارہ حمیرا چنا نے پاکستانی میوزک انڈسٹری میں اقربا پروری اور جانبداری کے رویوں پر کھل کر تنقید کی ہے۔

ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے حمیرا چنا نے کہا کہ میوزک انڈسٹری میں اقربا پروری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مواقع چند مخصوص فنکاروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ تجربہ کار گلوکار مسلسل نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈسٹری میں فیورٹ ازم عام ہے، بار بار انہی چند ناموں کے ساتھ کام کیا جاتا ہے اور دیگر فنکاروں کو پس منظر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ خود بھی اس جانبداری کا سامنا کر چکی ہیں۔ حمیرا چنا کے مطابق یہ صورتحال افسوسناک ضرور ہے مگر حقیقت یہی ہے اور ضروری ہے کہ انڈسٹری تمام فنکاروں کو ساتھ لے کر چلے اور اصل صلاحیت کو ترجیح دے۔

لیجنڈ فنکاروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ آپ ایک لیجنڈ ہیں مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ان لیجنڈز کے پاس کام بھی موجود ہے یا نہیں۔ جب کوئی فنکار دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو تب سب یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو انہیں فلاں گانا دے دیا جاتا، یا پھر کسی فنکار کے بیرونِ ملک سے واپس آنے پر اچانک اسے اسٹار بنا دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ حمیرا چنا نے 90 کی دہائی میں فلمی گانوں کے ذریعے نمایاں شہرت حاصل کی، وہ نگار ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں اور صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے متعدد لوک کلام پاکستان ٹیلی وژن پر اپنی آواز میں پیش کر چکی ہیں۔

Similar Posts