انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی: حکومت اور اپوزیشن سے نام طلب

پاکستان کے انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کمیٹی کے ارکان کی نامزدگی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو خطوط ارسال کر دیے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے چیئرمین سینیٹ، حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کو لکھے گئے خطوط میں کمیٹی کے لیے ارکان کے نام تجویز کرنے کی درخواست کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مجوزہ کمیٹی 30 ارکان پر مشتمل ہوگی، جس میں قومی اسمبلی سے 20 اور سینیٹ سے 10 ارکان شامل کیے جائیں گے۔ کمیٹی میں سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ایوانوں میں ان کی عددی قوت کے تناسب سے ہوگی۔

اس سے قبل وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں بتایا تھا کہ قومی اسمبلی انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دے چکی ہے اور اسپیکر قومی اسمبلی جلد ہی اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔

طارق فضل چوہدری کے مطابق قومی اسمبلی میں کمیٹی کی تشکیل سے متعلق تحریک پیش کیے جانے کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف نے اس کی مخالفت نہیں کی تھی۔

وزیر پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے قیام کا بنیادی مقصد انتخابی نظام میں بہتری، شفافیت اور اصلاحات کے لیے پارلیمانی سطح پر مشاورت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ انتخابی اصلاحات کے عمل میں اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کی مثبت اور قابلِ عمل تجاویز کو مناسب اہمیت دی جائے، تاکہ ایسا انتخابی نظام تشکیل دیا جاسکے جو شفافیت، عوامی اعتماد اور جمہوری اقدار کو مزید مضبوط بنائے۔

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی مشاورت اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ پارلیمنٹ پیپلز پارٹی کی درخواست پر انتخابی اصلاحات کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرچکی ہے۔

بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے بھی کمیٹی کے ارکان کے نام تجویز کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

پیپلز پارٹی نے مجوزہ پارلیمانی انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطے شروع کردیے ہیں۔

جمعے کے روز شیری رحمان کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کے وفد نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے سے ملاقات میں انہیں اس کمیٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی، جس پر علامہ ناصر عباس نے مشاورت کے بعد جواب دینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

ملاقات کے بعد سینیٹر شیری رحمان نے ویڈیو بیان میں بتایا کہ علامہ راجہ ناصر عباس نے وفد کا خیرمقدم کیا اور تجویز پر مشاورت کے بعد جواب دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ ’راجہ ناصر عباس نے ہمیں بتایا کہ وہ مشاورت کے بعد اس تجویز پر جواب دیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ ان کا جواب مثبت ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے پارلیمانی کمیٹیوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے، تاہم انہیں بھی مجوزہ کمیٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ ان کے تحفظات سامنے آسکیں اور وہ بھی انتخابی اصلاحات کے لیے اپنی تجاویز پیش کریں۔

اس سے قبل پیپلز پارٹی کا ایک وفد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو بھی کمیٹی میں شمولیت کی دعوت دے چکا ہے۔

سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بلاول بھٹو کی ہدایت پر وفد نے محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی اور انہیں انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

راجہ پرویز اشرف کے مطابق پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ تحریک انصاف پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں کے ساتھ انتخابی اصلاحات کمیٹی میں بھی شرکت کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی نے پیپلزپارٹی کی دعوت پر جواب دینے سے قبل مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے۔

Related posts