اربوں کی ٹیمیں، لاکھوں کی چائے

پی ایس ایل کے معاملات بہت خراب ہیں، اسے درست انداز میں نہیں چلایا جا رہا، ایسا ہو گیا ویسا ہو گیا۔

آپ نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران علی ترین کو سوشل میڈیا پر ایسے تند تیز بیانات داغتے ہوئے دیکھا ہو گا، ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ ان کو درست بھی سمجھ رہے ہوں لیکن پی ایس ایل کے حوالے سے جو تھوڑی بہت نالج مجھے ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے میں جانتا تھا کہ ان کی باتیں مکمل طور پر ٹھیک نہیں۔

اسٹرکچر میں بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ ہوتی ہے لیکن پھر بھی یہ پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا پروڈکٹ ہے جس سے پی سی بی کو بھی سالانہ اربوں روپے ملتے ہیں، ویلیوایشن سے قبل ہی سلطانز کے سوا تمام فرنچائز نے معاہدوں میں تجدید پر اتفاق کر لیا تھا، بعد میں فیس میں بھاری اضافے کے باوجود کسی نے یہ نہ کہا کہ ہمیں ٹیم نہیں رکھنی۔

اس سے صاف ظاہر تھا کہ پی ایس ایل کسی کے لیے بھی گھاٹے کا سودا نہیں، سلطانز کو بھاری فیس کھٹک رہی تھی ، شاید انھیں لگا کہ موجودہ ٹیم کو چھوڑ کر نئی خرید لیں گے جو سستی مل جائے گی۔

ڈہرکی شوگر ملز کے نام سے بڈ دستاویز بھی منگوائی گئی لیکن پھر نیلامی سے چند منٹ قبل دستبرداری اختیار کر لی، یعنی کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا 20 ہزار ڈالر، شاید انھیں علم ہو چکا تھا کہ معاملہ اربوں میں جانے والا ہے، ان کی ایک ارب 8 کروڑ فیس کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔

بعد میں ایسا ہی ہوا، آپ نے اگر میرا گزشتہ ہفتے کا کالم پڑھا ہو تو اس میں یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ دو ارب تک بات جا سکتی تھی، شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن بڈنگ میں شریک کچھ افراد شاید پروفائل بڑھانے آئے تھے یا انھیں ایسا لگا تھا کہ کروڑ پر معاملہ رک جائے گا۔

البتہ پی ایس ایل نے پرانی کاروباری شخصیات کو غلط ثابت کر دیا،ایف کے ایس ( کنگز مین) کے حوالے سے مجھے اندازہ تھا کہ یہ دور تک جا سکتے ہیں، شارٹ لسٹ شہروں میں حیدرآباد کا نام انہی کو مدنظر رکھتے ہوئے شامل کیا گیا تھا۔

نیلامی میں جس طرح ان کی جانب سے بڑا اضافہ سامنے آتے رہااس سے واضح تھا کہ وہ ہر حال میں ٹیم لینا چاہتے ہیں اور 2 ارب سے آگے بھی جا سکتے تھے،ایک ارب 75 کروڑ میں پہلی ٹیم فروخت ہونے کے بعد پی سی بی نے بڑی مہارت سے ریزرو پرائس بڑھا دی یوں سستی دوسری ٹیم خریدنے کا خواب دیکھنے والوں کے ارمان ٹھنڈے پڑ گئے۔

او زی گروپ کے اونر حمزہ مجید کو میں نہیں جانتا لیکن پارٹنر کامل خان کے ساتھ پرانی واقفیت ہے، وہ بہت متحرک شخصیت کے مالک ہیں،انھوں نے بھی ٹیم لینے کا تہیہ کیا ہوا تھا لہذا ریکارڈ ایک ارب 85 کروڑ میں فرنچائز خرید کر اسے سیالکوٹ کا نام دے دیا، یوں دونوں نئی ٹیمیں غیرملکی (امریکا اور آسٹریلیا ) کی کاروباری شخصیات کو مل گئیں۔

کچھ شریک افراد خاموش بیٹھے رہے یا رسمی طور پر ایک آدھ بولی دے دی، شاید ان کو لگا ہو کہ ریزرو پرائس بھی میچ نہ ہو پائے گی لیکن سب اندازے غلط سامنے ہو گئے، ان کو چائے بھی 20 ہزار ڈالر (56 لاکھ روپے سے زائد) کی پڑی۔

ہاں دوستوں کو یہ بتانے کا موقع ضرورمل گیا کہ ’’ تمہارا بھائی ٹی وی پر آئے گا نیلامی ضرور دیکھنا‘‘۔ پی سی بی نے تقریب میں مجھے مدعو کیا تھا لیکن میں کسی وجہ سے نہ جا سکا البتہ ٹی وی پر اسے لائیو دیکھا۔

وسیم اکرم نے اچھے انداز میں اسے کنڈکٹ کیا، دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز کے اونر عاطف رانا پریس کانفرنس میں بھی ساتھ بیٹھے نظر آئے جو کہ خوش آئند رہا، البتہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ تمام اونرز کو رسمی طور پر مدعو کرنے کے بجائے خاص مہمانان کے طور پر بلایا جاتا اور عزت افزائی کی جاتی۔

خیر جتنے بہترین اور شفاف انداز میں یہ پراسس مکمل ہوا اس پر محسن نقوی، سلمان نصیر و دیگر آفیشلز داد کے مستحق ہیں، تقریب لائیو ٹیلی کاسٹ ہوئی، سب کو شرکت کا موقع ملا، علی ترین نے اتنی منفی باتیں کیں انھیں بھی بلیک لسٹ کر کے ہیرو بننے کا موقع نہ دیا گیا۔

یہ سب بہترین حکمت علی کا منہ بولتا ثبوت تھا، اب لیگ کو اور بڑا بنانا ہوگا، فرنچائز فیس سینٹرل پول میں نہیں جاتی یہ پی سی بی کو ملتی ہے لہٰذا ٹیموں کیلیے بورڈ کو نئے بڑے معاہدے کرنا ہوں گے، میچز بھی بڑھ جائیں گے لہذا میڈیا رائٹس کنٹریکٹ میں بھی خطیر اضافے کا امکان ہے۔

نئے معاہدوں میں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ بروقت ادائیگیاں بھی ہوں، اب 2 فرنچائز بڑھ گئی ہیں لہٰذا آمدنی میں اضافہ بھی ضروری ہے، نئی ٹیموں کیلیے آتے ہی منافع کمانا بھی آسان نہ ہو گا، ان کو پی سی بی نے 5 سال تک 85 کروڑ تو کم از کم سینٹرل پول کی مد میں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یوں ایک ٹیم کو ایک ارب اوردوسری کو 90 کروڑ جیب سے خرچ کرنا ہوں گے، کم از کم 50،60 کروڑ پلیئرز و آفیشلز کی فیس،سفری و رہائشی انتظامات و دیگر الگ ہیں، ڈیڑھ ارب روپے سالانہ کور کرنا آسان نہیں لیکن یقینی طور پر ان کا کوئی نہ کوئی بزنس ماڈل ہوگا۔

اتنی بڑی کاروباری شخصیات ایسے ہی کسی کام میں ہاتھ نہیں ڈال سکتیں، ریٹینشن کا معاملہ بھی چل رہا ہے، نئی ٹیمیں زیرو ریٹینشن کے حق میں ہیں، پرانی فرنچائز 8 کے بجائے 5 کا کہہ رہی ہیں، شاید 3 پر معاملہ طے ہو جائے۔

زیرو ریٹینشن سے پرانی ٹیمیں شدید متاثر ہوں گی لہذا مل بیٹھ کر ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے، زیادہ پیسہ کمانے والی اولاد والدین کو بھی اچھی لگتی ہے، یقینی طور پر پی سی بی کو بھی نئی فرنچائز پر اس وقت بہت پیار آ رہا ہو گا لیکن اس کے ساتھ پرانے اونرز کو بھی نہ بھولیں، وہ برے وقت کے ساتھی ہیں۔

جب کوئی آنے کو تیار نہ تھا، سب مل کر پی ایس ایل کو مزید بڑا برانڈ بنائیں، اب تو سنا ہے ملتان سلطانز کو بھی جلد فروخت کرنے کا ارادہ کرلیا گیا ہے جو درست فیصلہ ہوگا، شاید اس بار 2 ارب روپے کا میجیکل فیگر عبور ہو جائے، فی الحال نقوی صاحب کیلیے ویلڈن جو ایک اور محاذ پر کامیاب ہو گئے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

Similar Posts