یہ 1948 کی بات ہے جب دوسری جنگ عظیم سے تھکے ہوئے امریکا میں ٹرومین اور میک آرتھر حریف کے طور پر سامنے آئے۔ یہ دونوں انتخابی حریف کے طور پر ایک دوسرے کے مقابل تو نہ آ سکے لیکن ان کے درمیان کشمکش نے سیاسی فضا اتنی پراگندہ کر دی جیسی پراگندگی کا مشاہدہ حالیہ برسوں میں ہم پاکستان میں کر رہے ہیں۔
جنرل میک آرتھر نے کوریا کی جنگ کے معاملے میں حکومت کی پالیسیوں سے کھلم کھلا اختلاف کیا اور اس نے کانگریس، ذرائع ابلاغ اور عوامی دبا کے ذریعے پالیسی بدلوانے کی کوشش کی۔ اس کی پاداش میں میک آرتھر کو برطرف کر دیا گیا۔ اس کے بعد جو صدارتی انتخابات ہوئے، ان میں جنرل میک آرتھر نے مقبولیت کے گھوڑے پر سوار ہو کر سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ وہ صدارتی امیدوار تو نہ بن سکا لیکن ذرائع ابلاغ اور رائے عامہ کی حمایت کے زور پر ایسی صورت حال پیدا کرنے میں کام یاب رہا جس میں اس کا بیانیہ سکہ رائج الوقت بن گیا جس کے خلاف نہ صرف یہ کہ بات کرنی مشکل ہو گئی بلکہ سنجیدہ گفتگو بھی ممکن نہ رہی۔ ہمارے ہاں جیسے ان دنوں ایک طبقے کے نزدیک عمران خان کے سوا کوئی دوسرا موضوع گفتگو کے قابل نہیں، بالکل یہی صورت امریکا میں بھی دیکھی گئی۔ مقبول لیڈر یعنی میک آرتھر اس زمانے میں کسی نجات دہندہ کی طرح ابھرا۔ وہ کیا پہن رہا ہے، کس طرح اٹھتا بیٹھتا ہے، کیسے بات کرتا ہے اور کس معاملے میں کیا رائے رکھتا ہے، اس زمانے میں سیاسی گفتگو اسی کے گرد گھومتی تھی۔ میک آرتھر کیسے مردانہ وجاہت کا نمونہ ہے، اس کی اہلیہ کیسے حسن کی دیوی ہے۔ ذرائع ابلاغ اس کی سیاسی سرگرمیوں کا ذکر ان التزامات کے بغیر نہیں کرتے تھے۔
میک آرتھر اپنے مخالف پر کھلے ذاتی حملے کرتا اور ایسا کرتے ہوئے وہ معروف اخلاقی معیارات کو پامال کر دیتا جیسے کوریا کی جنگ میں صدر ٹرومین کی پالیسیوں کا ذکر ایسے الفاظ میں کیا جسے غداری سے تعبیر کیا جا سکتا تھا۔ اس طرح کی صورت حال میں مجموعی طور پر ایسا ماحول بن گیا جس کے نتیجے میں جنرل میک آرتھر کے مقف کے خلاف کوئی بات کہنی مشکل ہو گئی یعنی حالات ایسے ہو گئے جن میں لوگ مقبول بیانیے کے خلاف کوئی مؤقف اختیار کرتے ہوئے ڈرتے۔ اگر ہمت کر کے کوئی ایسا کرتا بھی تو اس پر توجہ دینے پر کوئی آمادہ نہ ہوتا۔ یہی کیفیت ہے جس کا تجربہ برادرم خورشید ندیم صاحب کو ہوا ہے۔ یہ صرف ان کا تجربہ نہیں، پورے ملک کا تجربہ ہے۔ یہی کیفیت ہے جسے میں نے جبر سے تعبیر کیا ہے۔
1948 کے امریکی صدارتی انتخابات اس ماحول میں ہوئے جس میں عمومی طور پر فضا کشیدہ تھی۔ اس ماحول میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں اگر یہ ذہن میں آئے کہ اس موقع پر خوب گہما گہمی رہی ہوگی تو یہ فطری ہو گا لیکن یہ انتخاب بہت مختلف تھا۔ اس بار مجموعی طور پر 51 فیصد افراد نے حق رائے دہی استعمال کیا جب عام طور پر پولنگ کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہوتی تھی۔
انتخابی عمل میں عوام کی دلچسپی میں کمی کیوں واقع ہوئی؟ اس سوال پر ماہرین نے تحقیق شروع کر دی۔ اس ضمن میں سب سے اہم کام جرمن نژاد امریکی محقق کرٹ لینگ اور ان کی اہلیہ گلیڈی اینگل لینگ کا تھا جس کے نتیجے میں Media Malaise تھیوری وجود میں آئی۔ اس تھیوری کی تفصیلات بہت سی ہیں لیکن خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی معاشرے میں 1948 میں امریکا جیسی سیاسی کشیدگی پیدا ہو جائے اور سیاسی راہ نما معروف سیاسی اخلاقیات سے روگردانی کر کے غیر پارلیمانی یا غیر اخلاقی رویہ اختیار کر لیں اور ذرائع ابلاغ اسے کون کا توں پیش کرنے لگیں تو اس کے نتیجے میں جائز یعنی آئینی اور قانونی نظام کمزور ہو جاتا ہے اور عوام فرار کے راستوں میں نجات تلاش کرتے ہیں۔ پاکستان میں 2014 سے جو صورت حال پیدا ہوئی ہے، اس کا جائزہ 1948 کے امریکی تجربے کی روشنی میں لیا جائے تو زیادہ تفاوت نظر نہیں آتا۔ اختلاف رائے کے ضمن میں ویسا ہی جبر ہے جس کا مشاہدہ امریکا میں کیا گیا۔ امریکا کی طرح یہاں بھی متبادل بیانیے پر کوئی توجہ نہیں دیتا اور نہ اختلاف رائے کو برداشت کیا جاتا ہے۔ کرٹ لینگ اور ان کی اہلیہ نے بتایا تھا کہ سیاسی مکالمہ جب اس سطح کو پہنچتا ہے تو اس کے نتیجے میں لوگ سیاسی عمل اور سیاسی اداروں سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ ایک طبقے کی ایک سیاسی گروہ سے گہری اور شدید وابستگی کے باوجود اس کیفیت کا مشاہدہ ہم کر رہے پیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس کشیدگی نے ہمیں نظام کے انہدام کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ گویا میڈیا ملائس تھیوری میں اس طرز عمل کے جن نقصانات کی نشان دہی کی گئی تھی، اس کے وہی نتائج نوشتہ دیوار ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ مرض کی دوا کیا ہے؟ برادرم خورشید احمد ندیم صاحب نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کا علاج ایک اور کلٹ کی صورت میں دیکھا جا رہا ہے۔ ونڈر بوائے والی بات بھی یہی لگتی ہے۔ اگر واقعی یہی حل پیش نظر ہے تو یہ اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے والی بات ہے جس نے معاملات کو یہاں تک پہنچایا ہے۔ اس طرح مسئلہ حل نہیں ہو گا، مزید الجھ جائے گا۔ اس الجھن کی سلجھن میری رائے میں یہ ہے کہ معاشرے میں پائے جانے والے ہیجان میں بہ تدریج کمی لائی جائے۔ میاں نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف ارادی یا غیر ارادی طور پر یہی کر رہے ہیں۔ اس طرز عمل کو تحریک کی صورت میں پورے سماج تک وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔
‘داستان صادق’ ایک عہد آفریں صحافی کی سرگزشت
جناب مصطفی صادق کو میں کب سے جانتا ہوں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جب سے میں اخبار کا قاری بنا۔ میری خوش قسمتی یہ تھی کہ پرائمری اسکول کے بعد ہائی اسکول تک پہنچتے پہنچتے مجھے ایسا حلقہ میسر آ گیا جہاں چار پانچ اخبارات بیک وقت پڑھنے کے لیے مل جاتے تھے، ان میں روزنامہ’ وفاق’ بھی شامل تھا۔ یہ اخبار رنگ و روغن سے بے نیاز تھا، صفحات معاصر اخبارات سے کم ہوتے تھے لیکن اس کی پیشکش کا انداز منفردتھا۔ ‘وفاق’ میں ایسا بہت کچھ پڑھنے کو مل جاتا جو دوسرے اخبارات میں نہ ہوتا۔ اس کی دوسری خوبی یہ تھی کہ وہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کیا کرتا۔ ایسے خوش نصیبوں میں خود میرا شمار بھی ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے مصطفی صادق مرحوم کو میں اپنا محسن تصور کرتا ہوں۔
یہی سبب تھا جناب جمیل اطہر قاضی نے مصطفی صادق مرحوم کی خود نوشت ‘ داستان صادق’ مجھے عطا کی تو میں نے روحانی خوشی محسوس کی۔ اس خوشی کا سبب صرف ذاتی نہیں بلکہ یہ بھی تھا کہ یہ کتاب قومی زندگی کے کچھ ایسے رازوں سے بھی پردہ اٹھائے گی جو اب تک ہمارے علم میں نہیں آ سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخبار کا مالک اور ایڈیٹر سیاست دان ہو یا نہ ہو، سیاست کو اس سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا۔ مصطفی صادق کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے صرف صحافی کی حیثیت سے ہی تاریخ ساز کردار ادا نہیں کیا بلکہ قومی بحرانوں کے حل میں بھی نہایت اہم کردار ادا کیا۔ ‘داستان صادق’ جہاں مصنف کی ذاتی زندگی اور جدوجہد کا سبق آموز ماجرا بیان کرتی ہے، وہیں قومی تاریخ کے مختلف گوشوں سے بھی پردہ اٹھاتی ہے۔ جیسے 1953 کی تحریک ختم نبوت، مولانا مودودی اور مولانا عبد الستار نیازی کو پھانسی کی سزا، بھٹو صاحب کا دور حکومت اور ان کے خلاف چلنے والی تحریک کے کچھ ایسے پہلوؤں سے پردہ اٹھاتی ہے جو اب تک سامنے نہیں آسکے۔ یہ کتاب جنرل ضیا الحق کے گیارہ برس طویل اقتدار کی کہانی بھی بیان کرتی ہے جس کی تفصیلات کہیں اور نہیں ملتیں۔ اس اعتبار سے یہ ایک منفرد خود نوشت ہے جو تاریخ کو نہایت مصدقہ مواد فراہم کرتی ہے۔ پاکستانی صحافت، سیاست اور تاریخ کا کوئی سنجیدہ طالب علم اس کتاب کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ جناب جمیل اطہر قاضی نے مصطفی صادق مرحوم کی یہ کتاب مرتب کر کے قومی خدمت انجام دی ہے جس پر وہ شکریے کے مستحق ہیں۔