سوشل میڈیا پر کیا اور کیسے وائرل ہوتا ہے؟ دلچسپ حقائق

انٹرنیٹ کی دنیا ہر لمحہ بدل رہی ہے۔ یہاں جو مواد آج وائرل ہوتا ہے، کل اسے کوئی یاد بھی نہیں رکھتا اور اگلے ہی دن کوئی نیا ٹرینڈ آکر پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں وائرل ہونا محض اتفاق نہیں، بلکہ یہ  دلچسپی، جذبات، جدت اور الگ تھلگ پیشکش کا مجموعہ ہوتا ہے۔ نوجوانوں سے لے کر برانڈز تک ہر کوئی یہی جاننے کی کوشش میں ہے کہ آخر وہ کون سی چیزیں ہیں جو انٹرنیٹ پر ’آگ لگا دیتی ہیں‘۔

کسی بھی وائرل مواد کی پہلی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ ریلیٹ ایبل ہو۔ یعنی ایسا کہ دیکھتے ہی عام لوگ کہیں ’’یہ تو میرے ساتھ بھی ہوتا ہے!‘‘۔ خواہ وہ کسی کا مزاحیہ ردِعمل ہو، روزمرہ زندگی سے جڑا کوئی مسئلہ ہو یا ایک مختصر موٹیویشنل کلپ۔

ایسی چیزیں بہت آسانی کے ساتھ چند گھنٹوں میں ہزاروں شیئرز حاصل کر لیتی ہیں۔ دوسری بڑی چیز احساسات ہیں۔ خوشی، حیرت، دکھ یا انسانیت۔ جس مواد میں جذبات ہوں، وہ وائرل ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگاتا اور بہت جلد دنیا بھر میں پھیل جاتا ہے۔

انٹرنیٹ (سوشل میڈیا) پر ویڈیوز آج بھی سب سے زیادہ وائرل ہونے والی کیٹیگری ہیں۔ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام ریلز نے چھوٹے دورانیے کی ویڈیوز کو وہ طاقت دے دی ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔

کوئی منفرد ٹیلنٹ، مزاحیہ اسکیچ، ٹریول کلپ یا ڈانس چیلنج۔ یہ سب چند سیکنڈز کی ایسی چیزیں ہیں جو دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ اسی طرح منفرد فوڈ ریسپیز، گھر سجاوٹ کے تیز اور آسان ٹرکس اور ہلکے پھلکے لائف ہیکس بھی فوراً ٹرینڈ بنا دیتے ہیں۔

آج کل ’’چیلنجز‘‘ بھی وائرل ہونے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ لوگ نہ صرف انہیں پسند کرتے ہیں بلکہ خود بھی بنا کر اپلوڈ کرتے ہیں، جس سے بعض اوقات کوئی ویڈیو بھرپور عالمی مہم کی شکل بھی اختیار کر لیتی ہے۔ کچھ چیزیں محض منفرد ہونے کی وجہ سے وائرل ہو جاتی ہیں، جیسے غیر معمولی خبریں، حیران کر دینے والے حقائق، جانوروں کی ویڈیوز یا نہ سمجھ آنے والے واقعات۔

دنیا بھر میں مشہور برانڈز بھی اب وائرل ہونے کی طاقت کو سمجھ چکے ہیں۔ اس لیے وہ ایسے دلکش اشتہارات اور کری ایٹو کمپینز بناتے ہیں جو نوجوانوں کو فوراً اپنی طرف کھینچ لیں۔ کبھی کسی ڈائیلاگ کے سبب کوئی اشتہار وائرل ہو جاتا ہے، تو کبھی کسی فنکار یا انفلونسر کو شامل کرنا ان کی کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔

انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی چیزوں کا کوئی فارمولا نہیں ہے، لیکن ایک بات طے ہے کہ مواد جتنا منفرد، مختصر، جذباتی اور شیئرایبل ہوگا، اس کے وائرل ہونے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ آنے والے وقت میں بھی یہی اصول سوشل میڈیا ٹرینڈز کی سمت متعین کرتے رہیں گے۔

Similar Posts