پنجاب میں سلنڈر پھٹنے اور آگ لگنے کے سب سے زیادہ واقعات کہاں ہوئے؟ اعدادوشمار جاری

سال 2022 سے 2025 کے دوران ایل پی جی سلنڈر پھٹنے اور آگ لگنے کی وجہ سے لاہور سمیت پنجاب بھر میں 25 افراد جاں بحق اور 242 افراد شدید زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ درجنوں جسمانی معذوری کا شکار ہو کر رہ گئے۔

ایل پی جی سلنڈر کے سب سے زیادہ حادثات میں لاہور 170 واقعات کے ساتھ پہلے، فیصل آباد 50 حادثات کے ساتھ دوسرے اور 38 واقعات کے ساتھ راولپنڈی تیسرے اور گجرانوالہ 25 حادثات کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا جبکہ حافظ آباد اور لودھراں پنجاب کے محفوظ ترین شہر رہے جہاں ایک بھی سلنڈر پھٹنے یا آگ لگنے کا واقعہ رونما نہیں ہوا۔

ایکسپریس نیوز کو ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 4 سال کے دوران پنجاب بھر میں ایل پی جی سلنڈر پھٹنے اور آگ لگنے کے مجموعی طور پر 488 حادثات ہوئے جن میں مجموعی طور پر 25 افراد جاں بحق اور 286 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 44 افراد کو اسپتال میں طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈسجارج  کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق ملتان میں 18 حادثات ہوئے جس میں 8 افراد زخمی ہوئے، سرگودھا اور شیخوپورہ میں بالترتیب 19، 19 حادثے ہوئے جن میں 23 اور 29 افراد زخمی ہوئے جبکہ 8 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ گجرانولہ میں 25 حادثات ہوئے جن میں 7 افراد زخمی ہوئے۔

بہاولنگر میں 16 حادثے ہوئے جن میں 10 زخمی ہوئے، بہاولپور میں 12 حادثات ہوئے جن میں تین زخمی ہوئے، گجرات میں 12 حادثات ہوئے جن میں  3 زخمی اور ایک جاں بحق ہوا، اٹک میں 8 حادثات ہوئے جن میں دو زخمی ہوئے۔ چکوال اور چنیوٹ میں 7، 7 واقعات ہوئے اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔

اسی طرح، ڈیرہ غازی خان میں 10 واقعات ہوئے جن میں دو افراد زخمی ہوئے، مظفرگڑھ میں 6 واقعات ہوئے جن میں ایک زخمی ہوا، مری میں 4 واقعات ہوئے جن میں ایک زخمی ہوا، میاںوالی میں 5 حادثات ہوئے جن میں دو زخمی ہوئے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور وہاڑی میں دو، دو حادثات ہوئے اور مجموعی طور پر 6 افراد زخمی ہوئے۔

منڈی بہاءالدین میں 7 حادثات ہوئے جن میں 6 افراد زخمی ہوئے۔ جھنگ، جہلم اور قصور میں 4، 4 حادثات ہوئے جن میں دو افراد زخمی ہوئے۔ رحیم یار خان اور راجن پور میں 3، 3 واقعات ہوئے اور آگ پر فوری قابو پا لیا گیا۔

ایل پی جی ڈسٹریبیوٹر ایسوسی ایشن کے مطابق زیادہ تر حادثات ناقص اور غیر معیاری سلنڈر کی وجہ سے پیش آئے۔ آگرا کی مدد سے لاہور، شیخوپورہ، گجرانولہ، سیالکوٹ، گجرات، ملتان میں ناقص اور غیر معیاری سلنڈر بنانے والوں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی مگر اس کے باوجود غیر معیاری سلنڈر نہ صرف بن رہے ہیں بلکے کھلے عام فروخت بھی ہو رہے ہیں۔

Similar Posts