ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہےکہ ہم جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں۔
عالمی میڈیا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ پرتشدد مظاہروں کے دوران مظاہرین میں ہتھیار تقسیم کیے گئے، جس کے شواہد موجود ہیں، جبکہ صورتحال اب مکمل طور پر قابو میں ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کو حالیہ مظاہروں کے دوران سنگین چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم ریاستی اداروں نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور اب حالات مکمل کنٹرول میں ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین میں اسلحہ تقسیم کیے جانے کی فوٹیجز موجود ہیں اور گرفتار افراد کے اعترافی بیانات جلد جاری کیے جائیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران ساڑھے تین سو کے قریب مساجد کو آگ لگائی گئی، لیکن سیکیورٹی فورسز نے اشتعال انگیزی کے باوجود صبر و ضبط سے کام لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر مظاہرین کے مطالبات جائز تھے اور حکومت ان مطالبات کو سن بھی رہی تھی، تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مداخلت سے متعلق بیان کے بعد مظاہرے پرتشدد رخ اختیار کر گئے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ عباس عراقچی اور امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وِٹکوف کے درمیان کمیونیکیشن چینل بحال ہے، اور جب بھی ضرورت پیش آئی، اسی چینل کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، چاہے وہ سفارتی مذاکرات یا دفاعی اقدامات ہوں۔