خود کو وینزویلا اور اپنے وزیر خارجہ کو کیوبا کا صدر بنا دیا؛ ٹرمپ چاہتے کیا ہیں؟

0 minutes, 27 seconds Read
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا صدر قرار دینے کے بعد اپنے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو کیوبا کا صدر بنانے کا اشارہ دیدیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ حیران کن انکشاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے جواب میں کیا۔

اس پوسٹ میں ایک غیر معروف صارف نے مذاقاً لکھا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کیوبا کے اگلے صدر بنیں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اس پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے حیران کن جواب دیا کہ ’’مجھے یہ آئیڈیا پسند آیا‘‘۔

🚨 BREAKING: President Trump says Marco Rubio will be appointed the next President of CUBA 🤣

“Marco Rubio will be President of Cuba”

TRUMP: “Sounds good to me!”

The jobs just keep coming for Marco 😂 pic.twitter.com/YPan8nAeCF
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) January 11, 2026

ابھی یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ نے ایسا مذاقاً کہا ہے کہ یا وہ واقعی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے بھی ہیں۔ بہر حال صورت حال چند روز میں واقع ہوجائے گی۔

تاہم صدر ٹرمپ کی اس پوسٹ کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھ گئی ہے کہ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ کیوبا کو اب وینزویلا سے تیل نہیں ملے گا۔

صدر ٹرمپ نے کیوبا کو دھمکی دی کہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کرلے ورنہ سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔

امریکی صدر نے کیوبا کے ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاہدہ جلد از جلد کرلیں۔ اس سے قبل کہ کافی دیر ہوجائے۔ 

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کے تیل اور رقم کی وجہ سے کیوبا کا معاشی نظام چل رہا تھا مگر اب وہ سپورٹ ختم ہوگئی ہے۔

جس پر کیوبا کے صدر نے کہا کہ کوئی بھی ہمیں یہ نہیں بتاسکتا کہ بطور ریاست ہمیں کیا کرنا ہے۔ ہم ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہیں۔

“…THERE WILL BE NO MORE OIL OR MONEY GOING TO CUBA – ZERO! I strongly suggest they make a deal, BEFORE IT IS TOO LATE. Thank you for your attention to this matter.”- President Donald J. Trump pic.twitter.com/bHEIysJ7q1
— The White House (@WhiteHouse) January 11, 2026

انھوں نے مزید کہا کہ یہ دھمکیاں نئی نہیں ہیں، کیوبا کو ہمیشہ سے امریکی جارحیت کا سامنا رہا ہے۔ ہم ان دھمکیوں سے نہیں ڈریں گے۔

یاد رہے کہ حال ہی امریکی فورسز ٹرمپ کے حکم پر وینزویلا کے صدر کو اہلیہ سمیت ان کے صدارتی محل سے گرفتا کر کے نیویارک لائے۔

جہاں وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ پر منشیات اسمگلنگ سمیت سنگین جرائم کے الزامات پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

دونوں نے عدالت میں ان الزامات کو سیاسی اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور کہا کہ ہمیں گرفتار نہیں بلکہ ہمارے ملک سے ہمیں اغوا کرکے امریکا لایا گیا۔

 

 

 

 

Similar Posts