یہ ملاقات اس وقت وائرل ہوئی جب پاکستانی ڈیجیٹل مارکیٹر ثوبان طارق نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ دھرو راٹھی سے مصافحہ کرتے اور ان کے کام کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ویڈیو میں ثوبان طارق گفتگو کے دوران ایک حساس اور متنازع سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان جیسے کئی لوگ دھرو راٹھی کی ویڈیوز شوق سے دیکھتے ہیں، تاہم ’آپریشن سندور‘ کے بعد بنائی گئی ایک ویڈیو پر انہیں تحفظات ہیں۔
ثوبان کے مطابق اس ویڈیو میں دیے گئے حوالہ جات زیادہ تر انڈین میڈیا پر مبنی تھے، جس سے یہ تاثر ملا کہ شاید وہ ویڈیو عجلت میں تیار کی گئی تھی۔
ثوبان طارق نے اسی سلسلے میں ایک اور ویڈیو کا حوالہ بھی دیا، جس میں دھرو راٹھی نے انڈین میڈیا کی اس رپورٹنگ کا ذکر کیا تھا جس میں کراچی بندرگاہ پر قبضے جیسے دعوے کیے جا رہے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آیا یہ مواد بھی بغیر مکمل تصدیق کے پیش کیا گیا تھا۔
اس پر دھرو راٹھی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ وہ انڈین میڈیا، خاص طور پر نیوز چینلز پر تنقید کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے نزدیک اخبارات میں شائع ہونے والی ہر خبر کو یکسر غلط قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کے اس جواب پر ویڈیو دیکھنے والوں کی آرا واضح طور پر منقسم نظر آئیں۔
View this post on Instagram
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے رائے دی کہ دھرو راٹھی سوال کا واضح اور تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔ اس ردعمل کے بعد ثوبان طارق نے ایک اور ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ سوال کسی ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ بطور پاکستانی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا تھا، مگر جواب ان کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔
کچھ صارفین کی جانب سے یہ تنقید بھی سامنے آئی کہ ثوبان طارق کو گفتگو میں زیادہ سخت مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔ اس پر وضاحت دیتے ہوئے ثوبان کا کہنا تھا کہ اختلاف کے باوجود شائستگی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ سامنے والا شخص ایک مخالف ملک سے تعلق رکھتا ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بدتمیزی یا جارحانہ رویہ اختیار کیا جائے۔
یہ بحث ایک بار پھر اس پس منظر میں سامنے آئی ہے کہ گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان محدود کشیدگی کے دوران بعض انڈین میڈیا چینلز نے مبینہ طور پر من گھڑت اور غیر مصدقہ خبریں نشر کی تھیں۔ اس دوران اسلام آباد، کراچی، فیصل آباد اور سیالکوٹ سمیت کئی پاکستانی شہروں پر قبضے کے دعوے کیے گئے، جو بعد ازاں بے بنیاد ثابت ہوئے۔
دھرو راٹھی بھارت کے معروف یوٹیوبر، سوشل میڈیا انفلوئینسر اور سیاسی و سماجی تجزیہ کار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ پیچیدہ سیاسی، سماجی اور ماحولیاتی موضوعات کو سادہ اور مدلل انداز میں پیش کرنے کی وجہ سے نوجوان طبقے میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔ یوٹیوب پر ان کے سبسکرائبرز کی تعداد تین کروڑ سے زائد ہے، جبکہ ان کا مواد انڈین سیاست، حکومتی پالیسیوں، جمہوریت، معیشت اور فیک نیوز جیسے موضوعات کے گرد گھومتا ہے، جس کی وجہ سے وہ بیک وقت پذیرائی اور تنقید دونوں کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔